‘مولانا عبدالحمیدکسی خاص سیاسی دھڑے کے ساتھ نہیں حق کے ساتھ ہیں’

زاہدان (سنی آن لائن) خطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید کے دفتر نے بیان جاری کرتے ہوئے بعض انتہا پسند ویب سائٹس کی جانب سے عائد الزامات اور قیاس آرائیوں کی شدید الفاظ میں تردید کی ہے جن میں عظیم سنی رہ نما کو بعض مخصوص سیاسی دھڑوں سے منسوب کرکے ان کے موقف کو متشددانہ قرار دیا گیا ہے۔ اس جاری بیان میں آتاہے:

“گزشتہ دنوں بعض انتہا پسند ویب سائٹس کی طرف سے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید پر بعض بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ ہے۔ آپ نے ایک سے زائد مرتبہ جامع مسجد مکی کے منبر سے اعلان کیا ہے کہ آپ کا کسی سیاسی دھڑے یا جماعت سے تعلق اور وابستگی نہیں ہے۔ بلکہ حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم کی وابستگی حق کے ساتھ ہے۔ آپ کی راہ اعتدال ومیانہ روی کا راستہ ہے اور انشاء اللہ آپ آخر تک حق کے ساتھ ہوں گے۔
آپ کا نظریہ  یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے مظلوم کا ساتھ دیں گے، چاہے مظلوم شیعہ ہو یا سنی، مسلمان ہو یا غیر مسلم۔
حکومت کی بعض پالیسیوں پر تنقید موجودہ حکومت کے ساتھ خاص نہیں بلکہ آپ کئی دفعہ اصلاح پسندوں کے دور حکومت میں اور اس سے پہلے کی حکومتوں پر بوقت ضرورت تنقید کرتے ر ہے ہیں۔ اس لیے کہ آپ کا خیال ہے تنقید تعمیری ہونی چاہیے نہ کہ تخریبی، آپ تنقید کے ساتھ ساتھ مفید مشورے اور حل بھی بتاتے ہیں۔ حضرت شیخ الاسلام کا عقیدہ ہے کہ اگر تعمیری تنقید نہ ہو تو حکومت ڈکٹیٹرشپ اور آمریت کی طرف چلے گی۔
مولانا عبدالحمید نے کئی مرتبہ یہ بات واضح کی ہے کہ ہر حکمران اور حکومتی ذمہ دار چاہے براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوا ہو یا بالواسطہ کسی عہدے پر فائز ہو، اس کی تنقید اور جواب طلبی عوام کا حق ہے۔ آپ کسی بھی حکمران کو تنقید سے بالاتر نہیں سمجھتے۔
حضرت شیخ الاسلام کا نقطہ نظر یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی شخص نہیں ہوسکتا؛ جب ایک یہودی آپ کی شکایت قاضی شریح کے پاس لیجاتا ہے اور آپ کا اپنا مقرر کردہ قاضی آپ کے خلاف فیصلہ سناتا ہے ، جب قاضی جنگی زرہ کو یہودی کے حوالے کرتا ہے تو اسلامی عدل سے متاثر ہو کر یہودی شخص مشرف بہ اسلام ہوتا ہے۔ اسی طرح کون ہے جو سرور کونین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بالاتر ہو؛ جب حْنین کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے انصار کے بعض نوجوانوں کو یہ کہتے ہوئے سنا: محارب کافروں کا خون ہماری تلواروں سے ٹپکتا ہے اور غنائم مکہ کے نو مسلمانوں کو دیا جارہا ہے! آپ صلى الله عليه وسلم نے ان نوجوانوں کی گرفتاری کا حکم نہیں دیا بلکہ انہیں اکٹھے کرکے وعظ ونصیحت فرمائی اور ان کو مطمئن کرکے دم لیا۔ احادیث مبارکہ میں اس طرح کی مثالیں بہت ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کشادہ دلی اور اخلاق حسنہ کے ساتھ تحفظات رکھنے والوں کی بات سن کر انہیں مطمئن فرمایا۔”
خطیب اہل سنت زاہدان کے تردیدی بیان میں مزید آتاہے: “موجودہ اور گزشتہ حکومتوں کے تعمیراتی پروجیکٹس اور سرگرمیاں ہمیشہ مولانا عبدالحمید کے نزدیک قابل تعریف اور مثبت رہی ہیں البتہ آپ نے جس بات پر حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا وہ مناصب اور عہدوں کی غیر منصفانہ تقسیم ہے جو تیس سالوں کے دوران شیعہ وسنی کی تفریق کرکے اہل سنت برادری کو مسلسل نظر انداز کرتی چلی آرہی ہیں۔ آپ حکومت کی مسلکی نگاہ اور تعصب پر تنقید کرتے رہیں گے جس کی وجہ سے آج تک ایک سنی نائب وزیر، نائب صدر، سفیر یا گورنر منصوب نہ ہوسکا۔”
modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago