تنگ نظرعناصر کی متعصبانہ قیاس آرائیوں کا تسلسل جاری ہے

رپورٹ (سنی آن لائن) گزشتہ چند دنوں سے غلط رپورٹس اور قیاس آرائیوں کا سہارا لیتے ہوئے بعض انتہا پسند اور اتحاد دشمن عناصر ملک میں شیعہ برادری کو اہل سنت الجماعت ایران کیخلاف اکسانے کی کوشش کرتے چلے آرہے ہیں۔

انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ یہ تنگ نظر اور فرقہ ورایت کے پرچار کرنے والے افراد اپنے غلط خیالات کو مختلف پلیٹ فارمز سے عوام تک پہنچاتے رہتے ہیں۔ بعض ویب سائٹس غیر متعلقہ اور نادان لوگوں کی قیاس آرائیوں کو بہانہ بنا کر ایران کی سنی برادری سے اپنی اندرونی نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ فرضی ماہرین کی آراء کا سہارا لیتے ہوئے یہ عناصر ہمیشہ اہل سنت والجماعت پر “وہابیت” کا وہمی لیبل لگاتے ہیں اور پھر سخت سے سخت تہمتوں کی بوچھاڑ کرتے ہیں۔
ان جھوٹے الزامات اور من گھڑت خیالات میں سے ایک کثرت اولاد اور ایک سے زائد بیوی رکھنے کا مسئلہ ہے جو گزشتہ دنوں سے بعض ویب سائٹس پر پوسٹ ہوا ہے۔ حالانکہ واقفانِ حال کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس مسئلے کا مذہبی تعصب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ صدیوں سے اسلامی قوانین کی ہم آہنگ یہ رسم چلی آرہی ہے خاص طور پر صوبہ سیستان وبلوچستان میں اس کا رواج ہمیشہ رہاہے۔
ان ویب سائٹس کے ذمہ دار حضرات تحقیق کے بجائے کسی نامعلوم لیکچرار کا حوالہ دیکر عوام میں انتشار اور فرقہ واریت پھیلاتے ہیں۔ اچھا ہوتا یہ حضرات کسی لیکچرار کے بجائے جسے کوئی جانتا ہے اور نہ یہ معلوم ہے کہ کس شعبے سے اس کا تعلق ہے متعلقہ اداروں اور شیعہ علمائے کرام سے رجوع کرتے۔ “فرقہ ضالہ” کی بڑھتی ہوئی آبادی سے پریشان عناصر کا دل ہرگز ایک مجہول لیکچرار کی خود ساختہ اعداد وشمار سے ٹھنڈا نہیں ہوگا۔
یہ دعوی سراسر جھوٹ پر مبنی ہے کہ سنی علمائے کرام عوام کو کثرت اولاد وازواج کی ترغیب دیتے ہیں بلکہ اب یہ الزام اللہ کے فضل وکرم سے علمائے کرام سے دور ہوچکاہے چونکہ صدر احمدی نژاد کثرت اولاد کے انتہائی پر زور حامی ہیں یہاں تک کہ انہوں نے جاری سال میں پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کے لیے الگ بجٹ بھی منظور کرایا ہے۔ اس لیے مذکورہ ویب سائٹس کے ذمہ داروں کو اب یہ کڑوی گولی کھانی پڑے گی اور اہل سنت کی بڑھتی ہوئی آبادی سے انہیں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
اس طرح کی قیاس آرائیوں اور جھوٹی رپورٹس جو وقفے وقفے سے منظر عام پر آتی ہیں اس بات کی نشاند ہی کرتی ہیں کہ سنی برادی کی نسل سے کس قدر دشمنی وعداوت کی جاتی ہے، ایک ایسی برادری جو ابھی تک اپنے بنیادی شہری حقوق سے محروم ہے اور امتیازی سلوک کا شکار چلی آرہی ہے کو برداشت نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ “وَ إِن کانَ مَکرُهُم لِتَزُولَ مِنهُ الجِبال”.
یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں اس قدر دشمن جو اہل سنت ایران کی نسل سے کی جاتی ہے کسی اور نسل اور برادری سے نہیں کی جاتی ہے۔ قیاس آرائیوں اور بغض ونفرت پر مبنی شائع رپورٹس اور انتہا پسند عناصر کے اقدامات اس دعوے کی واضح دلیل ہیں۔
دنیا کے سپر پاور ممالک اور انتہائی طاقت ور فو جیں تمام تر کوششوں کے باوجود اپنی مخالف نسلوں کی ریشہ کنی میں ناکام رہیں اور علم ودانش کے عام ہونے کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں۔ مناسب ہوگیا یہ عناصر بھی اس حقیقت کو تسلیم کرلیں؛ تعصب، فرقہ ورایت اور دشمنیاں پیدا کرکے، نامعلوم “ماہرین” اور “سیاسی کارکنوں” کا حوالہ دیکر فرقہ وارانہ مضامین شائع کرنے کے بجائے برادری و برابری، اتحاد اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی راہ اپنالیں۔ بلاشبہ قرآن وسنت کی تعلیمات سے یہی درس ہمیں ملتا ہے۔
modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago