کابل میں برطانیہ کے سفیر مارک سیڈوِل نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ اس عالمی کانفرنس میں افغانستان کے بعض علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری افغان سکیورٹی فورسز کو منتقل کرنے کا ٹائم ٹیبل طے کیا جائے۔
برطانوی سفیر کے بقول کانفرنس کے دوران افغانستان کو مالی امداد دینے والے امیر ممالک میں اس بات پر اتفاق کا امکان بھی ہے کہ تشدد کی راہ ترک کرنے والے طالبان عسکریت پسندوں کو افغان معاشرے کا ایک فعال اور مفید رکن بنانے کے افغان حکومت کے نئے منصوبے کے لیے مزید رقم فراہم کی جائے۔
توقع ہے کہ لندن کانفرنس سے خطاب میں افغان صدر حامد کرزئی اپنے اس نئے منصوبے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان