ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے یہ اقدام غلطی نہیں بلکہ دانستہ جرم ہے۔ بغیر پیشگی اطلاع کے پانی کھول کر اسرائیل غزہ کو پانی میں ڈبونا چاہتا ہے۔
ڈاکٹر سامی ابو زھری نے امدادی اداروں اور سماجی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ شہریوں کی مدد کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے ایک ہزار شہریوں کو فوری طور پر رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی اشیا کی ضرورت ہے، جس کی فراہمی میں امدادی اداروں کو بھی دل کھول کر کردار ادا کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیل نے گذشتہ غزہ کے قریب 1948ء کے دوران قبضے میں لیے گئے علاقوں میں بارش کے پانی کوجمع کرنے کے لیے بنائے گئے ڈیموں کے دروازے کھول دیے تھے جس سے پانی کے کئی ریلے غزہ داخل ہو گئے۔ غزہ میں پانی داخل ہونے سے پچاس مکانات ڈوب جانے سے ایک ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان