Categories: مشرق وسطی

حماس کسی کی آلہ کار نہیں، مصری رویے نے ایران اور ترکی کے قریب کیا: مشعل

دمشق (مرکز اطلاعات فلسطین) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے کہا ہے کہ مصر کی جانب سے مایوسی پر مبنی رویے اور خود کو دور کرنے سے حماس نے ایران اور ترکی کے ساتھ تعلقات کے دروازے کھولے۔

دمشق میں ٹی وی چینل”اوریٹ” کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حماس کے اپنے اصول ہیں جن پر اس کی قیادت اور اراکین نہایت دل جمی کے ساتھ عمل پیرا ہیں، یہ تاثرغلط ہے کہ حماس کسی کی آلہ کار ہے اور اسے بعض ممالک خطے میں اپنے مقاصد کے حصول کے استعمال کر رہے ہیں۔ حماس کبھی کسی کا آلہ کار نہیں رہی، تنظیم صرف اسرائیل کو اپنا دشمن سمجھتی ہے اور تمام عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ یکساں تعلقات کی خواہاں ہے۔
خالد مشعل نے کہا کہ خطے میں ایران اور ترکی کے اپنے اور الگ الگ مفادات ہیں لیکن حماس کی قوت فیصلہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے کسی دوسرے ملک کے پاس نہیں۔ حماس کے تمام ادارے مضبوط اور طاقت ور ہیں۔
حماس کے لیے ایران شام، ترکی اور مصر میں کوئی فرق نہیں، تاہم مصر نے خود کو فلسطینی عوام سے دور کیا اور اس کے خود کو سکیڑنے کی پالیسی نے حماس کو ایران اور ترکی کے قریب کیا، ہم اب بھی قاہرہ کے ساتھ مضبوط اور مستحکم تعلقات کے خواہاں ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں خالد مشعل کا کہنا تھا کہ حماس کو ایران کی جانب سے سفارتی مدد حاصل ہے جس کی فلسطینی عوام قدر کرتے ہیں امید ہے کہ یورپ بھی حماس کی غیر مشروط حمایت کرے گا، یورپ نے غیر مشروط حمایت اور مدد کی تو اسے قبول کریں گے۔
فلسطینی جماعتوں کے درمیان مصالحت سے متعلق سوال کے جواب میں خالد مشعل نے کہا کہ گذشتہ برس ستمبر اور اکتوبر میں مصر نے مفاہمتی مسودہ حماس کے حوالے کیا، حماس کو اس میں موجود بعض نکات پر تحفظات تھے جن سے متعلق مصر کو آگاہ کیا گیا اور تحفظات دور کرنے کی تجویز دی گئٓی، تاہم اس سلسلے میں مصری وزیر عمر سلیمان سے مذاکرات کے باوجود حماس کے تحفظات جوں کے توں ہیں۔
مصر اور حماس کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حماس مصری خون کو اسی طرح حرام سمجھتی ہے جس طرح فلسطینیوں کا خون حرام ہے، تاہم مصری حکومت سے انہیں شکایات ہیں، خاص طور سے غزہ کے گرد زیر زمین فولادی دیوار کی تعمیر اور غزہ کی سرحدیں بند رکھنا اور یورپ سے آنے والے امدادی قافلے کے شرکاء کے ساتھ توہین آمیز سلوک ایسے اقدامات ہیں جن سے حماس اور قاہرہ کے درمیان تناؤ پیدا ہوا تاہم اس کی بنیاد پر حماس اب بھی مصر کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے قیام کی خواہاں ہے۔
خالد مشعل نے کہا کہ ہم مصر کے دشمن نہیں، حماس ہر ایسے اقدام سے گریز کرے گی جو فلسطینی اور مصری عوام کے مفاد میں نہ ہو یا جس سے دونوں کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔ مصر کو بھی ایسی ہی پالیسی اختیار کرنا چاہیے۔
modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago