اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور ایندھن کی قلت کے باعث غزہ کے دوسرے بڑے اسپتال میں بھی کام بند ہوگیا۔
عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق غزہ کے دوبڑے اسپتالوں الشفا اور القدس میں دواؤں اورایندھن کی قلت کے باعث نئے مریضوں کا داخلہ اور کام بند ہوگیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائرکٹر نے مزید انسانی جانی نقصان کو روکنے کے لیے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتال محفوظ مقامات میں شامل ہوتے ہیں۔ جب اسپتالوں کو قتل گاہ میں تبدیل اور برباد کردیا جائے تو دنیا کو خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے۔
دوسری جانب فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ کے خان یونس اسپتال پراسرائیلی حملے میں 13 فلسطینی شہید ہوگئے۔ بمباری سے آس پاس کے مکانات بھی ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
الشفا اسپتال کے سرجن کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ کے کئی اسپتالوں کو اسرائیلی فوج نے گھیر رکھا ہے اور طبی عملہ اور مریض وار زون کے وسط میں آچکے ہیں۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…