سعودی عرب میں عرب و اسلامی ممالک کا مشترکہ غیر معمولی سربراہی اجلاس شروع ہوگیا ہے جس میں فلسطین کے علاقے غزہ میں جاری اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے خلاف لائحہ عمل پر غور کیا جارہا ہے۔
غزہ کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب لیگ کا مشترکہ ہنگامی اجلاس سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جاری ہے۔ اجلاس میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
نگراں وزیرِاعظم انوار الحق کاکڑ بھی اجلاس میں شریک ہیں۔ وزیرِ اعظم سربراہی اجلاس سے خطاب بھی کریں گے۔ وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ریاض میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا۔
ایران کے صدر ابراہیم رئیسی بھی اجلاس میں شریک ہیں۔ مارچ میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی پر اتفاق کے بعد سے یہ ایرانی صدر کا پہلا دورہ سعودی عرب ہے۔ اس موقع پر ابراہیم رئیسی نے فلسطین کا روایتی اسکارف کیفیہ بھی پہنا ہوا ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…