زاہدان (سنی آن لائن) دارالعلوم زاہدان کے نوجوان استاذ مولوی اکبر بیدل اور قاری ہدایت اللہ قنبرزہی کی گرفتاری سے سات دن گزرنے کے بعد ابھی تک ان کے حالات کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔
سکیورٹی فورسز نے جمعرات انیس اکتوبر کو قاری ہدایت اللہ قنبرزہی کو زاہدان شہر کے رازی روڈ سے نامعلوم وجوہ کی بنا پر گرفتار کیا ہے۔
ان کے علاوہ، جمعہ بیس اکتوبر کو سکیورٹی فورسز نے جامعہ دارالعلوم زاہدان کے اساتذہ کی رہائشی بلڈنگ پر غیرقانونی طورپر زبردستی سے دھاوا بول کر مولوی اکبر بیدل کو گرفتار کرکے لے گئے۔ اسی دن سینکڑوں نمازی نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد گرفتار ہوچکے ہیں جن پر تشدد کی رپورٹس شائع ہوئی ہیں۔
ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود مذکورہ اساتذہ کی گرفتاری کی اصل وجہ اور حراست کا مقام واضح نہیں جس سے ان کے اہل خانہ سخت پریشان ہیں۔
یاد رہے ان کے علاوہ، مولانا عبدالمجید مرادزہی، مولوی امان اللہ سعدی، مولوی حمیداللہ فاروقی، عبدالنصیر شہ بخش، اسامہ شہ بخش اور مہدی خداشناس جو دارالعلوم زاہدان سے وابستہ اساتذہ اور ملازمین ہیں، سکیورٹی فورسز کی حراست میں ہیں۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…