زاہدان (سنی آن لائن): جامعہ دارالعلوم زاہدان میں اردو اور انگریزی پڑھانے والے مایہ ناز استاذ جناب ہاشم افضلی مختصر علالت کے بعد زاہدان کے نبی اکرم اسپتال میں اتوار پندرہ جنوری دوہزار تئیس کے آخری لمحات میں انتقال کرگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
وفات سے چند قبل مسجد جاتے ہوئے ان کے پاؤں پھسل گئے تھے۔ طبیعت ناساز ہونے پر انہیں اسپتال شفٹ کیا گیا جہاں ان کی روح پرواز کرگئی۔
نماز جنازہ جامع مسجد مکی میں مفتی محمدقاسم قاسمی کی امامت میں ادا کی گئی۔ ان کا جسد خاکی تدفین کے لیے ضلع سوران منتقل ہوا۔
مرحوم افضلی زاہدان میڈیکل یونیورسٹی کے ریٹائرڈ ملازم تھے۔ گزشتہ کئی سالوں سے دارالعلوم زاہدان میں طلبہ و طالبات کو انگریزی اور اردو زبانیں پڑھارہے تھے۔ جامعہ کے اساتذہ اور طلبا نے مختلف فورمز پر تاثر کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق، جناب افضلی نے اعلیٰ تعلیم حیدرآباد سندھ میں حاصل کی۔ انہوں نے انگریزی زبان میں بی اے کرنے کے بعد فارسی زبان اور ادب میں ۱۹۷۰ کو ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
اس سے پہلے موصوف دارالعلوم ٹنڈو الہ یار میں چند سال دینی تعلیم حاصل کرکے مولانا ظفراحمد عثمانیؒ جیسی شخصیات سے استفادہ کا موقع حاصل کیا۔
مرحوم افضلی انتہائی ملنسار، ڈسپلن کے پابند اور اردو اور انگریزی زبانوں میں ماہر تھے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…