زاہدان (سنی آن لائن) جمعہ پچیس نومبر کو نماز جمعہ کے بعد احتجاجی ریلی میں شریک مظاہرین اور جامع مسجد مکی کے رضاکار سکواڈ کو فائرنگ سے نشانہ بنانے پر دارالعلوم زاہدان کے اساتذہ اور جامع مسجد مکی زاہدان کے رضاکار سکواڈ نے علیحدہ بیان دیتے ہوئے سکیورٹی فورسز کی شدید مذمت کی۔
ان بیانات کے مطابق، نماز جمعہ کے بعد حسب معمول کچھ نوجوانوں نے خیام روڈ پر نعرے بازی کی اور زاہدان کے خونیں جمعہ میں ملوث اہلکاروں کو قرارِ واقعی سزا دینے کا مطالبہ پیش کرتے چلے آرہے ہیں۔
بیان میں آیاہے کہ کم از کم تیس افراد زخمی ہوچکے ہیں جن میں رضاکار سکواڈ کے دس افراد شامل ہیں۔ تین افراد کے چہروں پر فورسز نے فائرنگ کی ہے جس کی وجہ ان کی آنکھیں ضائع ہوچکی ہیں۔
دارالعلوم زاہدان اور ’’انتظامات‘‘ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا انارکی پھیلانے والے شرپسند اہلکاروں کو لگام لگائیں تاکہ امن عامہ محفوظ رہے۔
اساتذہ دارالعلوم زاہدان نے کہا ہے سکیورٹی فورسز نے بچوں اور نوجوانوں کو زخمی کرنے کے علاوہ ایک بار پھر جامع مسجد مکی کی دیواروں اور دروازوں کو فائرنگ کا نشانہ بنایاہے چنانچہ فائرنگ کے نشانات واضح ہیں۔ مسجد کی توہین ناقابل برداشت ہے اور ایسی حرکتوں کے منفی نتائج نکلیں گے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…