بوکان (سنی آن لائن) ایران کے صوبہ مغربی آذربائیجان کے شہر بوکان سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالم دین ماموستا محمد خضرنژادکو بیٹا سمیت خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے گھر سے گرفتار کیا ۔
مقامی ذرائع کے مطابق، حساس اداروں کے اہلکار بروز ہفتہ 19 نومبر کو بوکان میں ماموستا خضرنژاد کے والد کے مکان پر چھاپہ مارکر انہیں بڑے بیٹا سمیت گرفتار کیا۔ ان کی گرفتاری کی وجہ تاحال نامعلوم ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اہلکاروں نے گرفتاری کے وقت ماموستا خضرنژاد کو ان کے بیاسی سالہ والد کے سامنے مارا پیٹا اور تلاشی کے بہانے سے پورے گھر کے سامان کو بکھیردیا۔
گرفتاری سے ایک دن قبل، ماموستا خضرنژاد نے حالیہ احتجاجوں میں شہید ہونے والے ایک شہری کی تعزیتی مجلس میں خطاب کیا ہے۔
شورائے مکتب قرآن کردستان نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ماموستا محمد خضرنژاد نے سنندج سے دینی تعلیم حاصل کی ہے اور عربی زبان و ادب میں ایم اے حاصل کرچکے ہیں۔ ان کے بیٹے یاسر خضرنژاد بھی فقہ اور لاء میں بی اے کرچکے ہیں۔
اس سے پہلے بھی سرکاری اداروں نے ماموستا خضرنژاد کی دینی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…