فرانس میں مسلم طلبا کو اسکول کینٹن میں سور کے گوشت کے بنے کھانے پیش کیے جاتے ہیں اور بار بار مطالبے کے باوجود حلال کھانا فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں اسکول کے کیفے ٹیریاز میں مسلم طلبا کو حلال کھانے کا آپشن نہیں دیا جا رہا ہے۔ مسلم طلبا کو اسکول میں تمام وقت بھوکا رہنا پڑتا ہے جس پر والدین کافی پریشان ہیں اور عدالت سے بھی رجوع کیا گیا تھا۔
فرانس کا دعویٰ ہے کہ اسکولوں میں کھانے کے مینیوز اور لباس سیکولرز اصولوں پر مبنی ہیں تاہم عدالتی فیصلے میں پایا گیا کہ متبادل مینو کے انتخاب کی پیشکش سیکولر اصولوں کی خلاف ورزی نہیں۔
عدالتی فیصلے کے باوجود کئی اسکولوں میں متبادل مینو نہیں پیش کیا جا رہا ہے۔ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 2016 سے صرف ایک مینیو ہی پیش کیا جا رہا ہے جسے جاری رکھا جا رہا ہے۔
تاہم مسلم اور یہودی والدین نے علاقائی انتظامیہ کو خطوط لکھے جس پر کچھ میئرز نے ماحولیاتی خدشات کے باعث خصوصی طور پر سبزی خور مینو تجویز کیا جس میں گوشت، مچھلی، یا سبزی خور شامل ہیں۔
جس پر 94 فیصد والدین نے مچھلی یا بیف/چکن کے مینو کا انتخاب کیا تاہم شدت پسند میئرز نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل سیکولر ازم کی مخالفت ہوگی۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…