افغانستان میں طالبان حکومت نے افغان پولیس کا نیا یونیفارم متعارف کرادیا جو توقعات کے برخلاف پینٹ اور شرٹ پر مشتمل ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ داخلہ نے ایک پریس کانفرنس میں افغان پولیس کے نئے یونیفارم کی رونمائی کی۔ جو شفاف نظام کی بدولت اشرف غنی کے دور کے یونیفارم کے مقابلے میں 70 فیصد کم لاگت پر تیار ہوا ہے۔
طالبان حکومت کے وزارت اطلاعات کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت دارالحکومت کابل اور قندہار میں 20 ہزار یونیفارم تقسیم کیے جائیں گے جب کہ ایک لاکھ مزید یونیفارم کی تیاری بھی جاری ہے۔
وزرات اطلاعات کے ترجمان نے مزید بتایا کہ افغان پولیس کے یونیفارم کی تیاری کا ٹھیکہ مقامی کمپنی کو دیا گیا ہے اور ٹھیکے میں شفافیت کو برقرار رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے لاگت میں 75 فیصد کمی آئی۔
طالبان کے افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد سے فروغ نیکی اور انسداد برائی کے محکمے کی پولیس کافی متحرک ہے جب کہ سابق افغان پولیس کے اہلکار روپوش ہوگئے تھے جو آہستہ آہستہ واپس آرہے ہیں۔
توقع کی جارہی تھی کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر پولیس کی طرح افغان پولیس کا لباس بھی شلوار قمیص پر مشتمل ہوگا تاہم پولیس فورس کو گہری رنگ کی شرٹ اور پینٹ پر مشتمل یونیفارم فراہم کیا گیا ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…