ایرانی اہل سنت کی خبریں

دارالعلوم زاہدان میں نئے تعلیمی سال کا آغاز

زاہدان (سنی آن لائن) ایرانی اہل سنت کی مرکزی دینی درسگاہ جامعہ دارالعلوم زاہدان میں بدھ پچیس مئی دوہزار بائیس کو نئے تعلیمی سال کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ افتتاحی تقریب میں صدرو شیخ الحدیث جامعہ نے صحیح بخاری کی پہلی حدیث پڑھائی۔
مولانا عبدالحمید نے صحیح بخاری کی پہلی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے اخلاص کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ افتتاحی تقریب جامع مسجد مکی میں منعقد ہوئی جہاں جامعہ کے اساتذہ اور طلبا نے شرکت کی۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: اخلاص اور نیک اعمال کو خالص اللہ ہی کے لیے بجا لانادین کا ایک تہائی حصہ ہے۔ہجرت کا شمار بہترین عبادات میں ہوتی ہے جو گناہوں کی معافی کا سبب بنتی ہے۔ لہذا ہجرت سے مقصد اور نیت ٹھیک ہونی چاہیے۔ علم کے لیے ہجرت بھی اللہ ہی کے لیے ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: علم و دانش حاصل کرنا محض اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے ہو، شہرت اور ریاکی خاطر علم حاصل نہیں کرنا چاہیے۔ مادی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر ہمیشہ روحانی مفادات اور منافع کو مد نظر رکھیں اور موت تک اسی اخلاص کی راہ پر گامزن ہوجائیں۔
اصلاحِ نفس اور تزکیہ کی اہمیت واضح کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا اس سے آدمی کے درجات بلند ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا: علم انبیا علیہم السلام کی میراث ہے اور ان کے حقیقی وارث وہی علما ہیں جو اللہ کی خاطر علم حاصل کرتے ہیں، وہ نہیں جو اندر سے ناپاک ہیں اور اپنی اصلاح سے عاجز ہوچکے ہیں۔ علم چاہے دینی و شرعی ہو یا عصری، دونوں ہماری ضرورتیں ہیں اور ان کے بغیر جہالت کا غلبہ ہوگا۔ دین اور دنیا دونوں خراب ہوجائیں گے۔

علما دینی خدمات سرانجام دیں
صدر شورائے ہم آہنگی مدارس دینی اہل سنت سیستان بلوچستان نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر علما کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: سب علما کو دینی اور علمی خدمات سے جڑے رہنا چاہیے۔ تعلیم سے بڑھ کر کوئی عزت اور علم سے بڑھ کر کوئی مصروفیت نہیں ہوسکتی۔ علما کو اپنا پیشہ اور فرض منصبی تبدیل نہیں کرنی چاہیے۔ یہ اللہ کو پسند نہیں کہ جن لوگوں کو اس نے علم کی دولت عطا فرمائی ہے، وہ پیسہ اور دنیا کے پیچھے پڑجائیں۔وہ طلبہ جو دنیا کی خاطر علم کی راہ کو چھوڑدیتے ہیں، قابلِ نفرت ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: علما اس وقت علم کی نعمت کا شکر ادا کرسکتے ہیں جب یکسوئی کے ساتھ علم پڑھانے اور شائع کرنے کو اپنا کام بناتے ہیں۔ دوسری نوکری تلاش کرنے سے یکسوئی حاصل نہیں ہوتی اور دنیا انہیں اپنی جانب کھینچتی رہتی ہے۔ یہ بہت خطرناک ہے۔ علما کوشش کریں یکسوئی کے ساتھ علمی اور دینی خدمات میں مصروف ہوجائیں۔
طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: علم جنت کی راہ ہے۔ دل میں افسوس نہ کریں کہ کاش علم حاصل کرنے کے بجائے کہیں اور مصروف ہوتے، بلکہ تمہیں خوش ہونا چاہیے علم اور خیر کثیر کے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق تمہیں حاصل ہوئی ہے۔ علم دین حاصل کرنے کی راہ میں سختیوں اور ممکنہ مشکلات کو برداشت کریں اور جامعہ کے ضوابط و قوانین کا احترام کریں۔

baloch

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

33 minutes ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago