اسرائیلی حکام نے شہروں کے نام یہودیانے کے بعد ایک اور تازہ جرم کا ارتکاب شروع کیا ہے۔
مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں تاریخی ابراہیم مسجد کی سیڑھیوں کے حصے مسمار کرنا شروع کردیے ہیں۔
حماس کے ترجمان عبد الطیف القانو نے مغربی کنارے کے فلسطینیوں سے کہا ہے کہ وہ اس پر احتجاج کریں۔ یہ عمل اب مسجد ابراہم کے تاریخی مقامی کی بھی یہودیانے کے جرم کی مرتکب ہو رہی ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ کسی کو ابراہیم مسجد کے حصوں کو کسی بھی بہانے نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تازہ کارروائی مسجد کی تاریخی سیڑھیوں کو گراکر برقی زینے کی آڑ میں کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیفتالی بینٹ نے مارچ 2020ء میں فلسطینی زمینوں کو زبردستی قبضے کرنے کا قانون پاس کیا تھا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…