اسرائیلی حکام نے شہروں کے نام یہودیانے کے بعد ایک اور تازہ جرم کا ارتکاب شروع کیا ہے۔
مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں تاریخی ابراہیم مسجد کی سیڑھیوں کے حصے مسمار کرنا شروع کردیے ہیں۔
حماس کے ترجمان عبد الطیف القانو نے مغربی کنارے کے فلسطینیوں سے کہا ہے کہ وہ اس پر احتجاج کریں۔ یہ عمل اب مسجد ابراہم کے تاریخی مقامی کی بھی یہودیانے کے جرم کی مرتکب ہو رہی ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ کسی کو ابراہیم مسجد کے حصوں کو کسی بھی بہانے نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تازہ کارروائی مسجد کی تاریخی سیڑھیوں کو گراکر برقی زینے کی آڑ میں کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیفتالی بینٹ نے مارچ 2020ء میں فلسطینی زمینوں کو زبردستی قبضے کرنے کا قانون پاس کیا تھا۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید