اسرائیلی حکام نے شہروں کے نام یہودیانے کے بعد ایک اور تازہ جرم کا ارتکاب شروع کیا ہے۔
مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں تاریخی ابراہیم مسجد کی سیڑھیوں کے حصے مسمار کرنا شروع کردیے ہیں۔
حماس کے ترجمان عبد الطیف القانو نے مغربی کنارے کے فلسطینیوں سے کہا ہے کہ وہ اس پر احتجاج کریں۔ یہ عمل اب مسجد ابراہم کے تاریخی مقامی کی بھی یہودیانے کے جرم کی مرتکب ہو رہی ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ کسی کو ابراہیم مسجد کے حصوں کو کسی بھی بہانے نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تازہ کارروائی مسجد کی تاریخی سیڑھیوں کو گراکر برقی زینے کی آڑ میں کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیفتالی بینٹ نے مارچ 2020ء میں فلسطینی زمینوں کو زبردستی قبضے کرنے کا قانون پاس کیا تھا۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار