زاہدان (سنی آن لائن)اہل سنت ایران کے ممتاز دینی و سماجی رہ نما نے اسلامی امارت افغانستان کے رہبر کو خط لکھتے ہوئے اسلام میں مردوں اور عورتوں کے لیے طلب علم و دانش کی تاکید کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان میں لڑکیوں کے ہائی سکولز کھولنے کوافغان قوم، حکومت اور اسلام کے مفادات کے مطابق قرار دیا۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید کی آفیشل ویب سائٹ میں شائع خبر میں اس خط کے بعض مضامین شائع ہوچکے ہیں۔
ایرانی بلوچستان کے بااثر عالم دین کے خط میں قائد امارت اسلامی افغانستان کے نام آیاہے: ”دنیا کے موجودہ حالات میں تعلیم لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ضروری ہے اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، اسلامی شریعت میں علم و دانش کے حصول پر سب کو یکسان تاکیداور نصیحت کی گئی ہے۔“
جامعہ دارالعلوم زاہدان کے صدر نے افغانستان میں لڑکیوں کے اسکولز کی بندش کے منفی اثرات اور نتائج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھاہے: اس موضوع کے حل فوری تدبیر سے ممکن ہے۔ لڑکیوں کے ہائی سکولز کو کھولنا افغانستان کی قوم، حکومت اور مجموعی طورپر اسلام کے مفادات کے مطابق ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…