بھارتی گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے چھٹی تا بارہویں جماعتوں کے نصاب میں ہندوؤں کی مقدس کتاب ’بھگوت گیتا‘ کو پڑھنا لازمی قرار دے دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست کی جانب سے جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی ثقافت اور افکار و نظریات کو اسکول کے نصاب میں شامل کررہے ہیں، بھگوت گیتا میں ذکر کردہ اقدار، اصول اور عقائد کو تمام مذاہب کے لوگ قبول کرتے ہیں۔
ریاست کے وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ بھگوت گیتا کے مضامین کو بعد میں کہانیوں، مباحثوں، ڈراموں اور کوئزز وغیرہ کی شکل میں متعارف کرایا جائے گا، جس کا خرچہ حکومت برداشت کریگی جبکہ بارویں جماعت کے طلباء کے لیے مقدس کتاب کا تفصیلی تعارف بھی پیش کیا جائے گا۔
دوسری جانب بھارت میں مسلمان طلبہ و طالبات کو مختلف کالجز اور یونیورسٹیز میں تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ بھارتی ریاست کرناٹکا سے حجاب پابندی پر اٹھنے والی تحریک پورے بھارت میں پھیل گئی ہے۔
اس سے قبل کرناٹکا ہائیکورٹ نے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پرپابندی برقراررکھنے کا حکم دیا تھا، جس پر مسلم تنظیموں کی جانب سے فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔
واضح رہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک کی ہائی کورٹ کے حجاب پر پابندی کے فیصلے کو مسلم طالبہ نبا ناز نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید