بھارتی ریاست کرناٹک کی ایک عدالت نے حجاب پر پابندی برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ اسلام میں لازمی نہیں ہے‘۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے 10 فروری کو مسلمان طالبات کو ہدایت دی تھی کہ جب تک عدالت مسلم خواتین کی جانب سے استعمال کیے جانے والے حجاب اور ہیڈ اسکارف پر پابندی کو ختم کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ نہیں سنا دیتی اس وقت تک کوئی بھی مذہبی لباس نہ پہنیں۔
یہ معاملہ جنوری میں اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب کرناٹک کے اڈوپی ضلع میں ایک سرکاری اسکول نے حجاب پہننے والے طالبات کو کلاس روم میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔
بعد ازاں طالبات کی جانب سے اسکول کے گیٹ کے باہر احتجاج بھی کیا گیا تھا جبکہ ریاست کے مزید اسکولوں میں بھی اسی طرح کی پابندیاں عائد کی گئیں، جس کے بعد ریاست کی اعلیٰ عدالت کو مجبوراً معاملے میں مداخلت کرنی پڑی تھی۔
ریاست کی اعلیٰ عدالت حکم آنے سےقبل حکومت نے ’عوامی امن و امان کو برقرار رکھنے‘ کے لیے ریاستی دارالحکومت بنگلورو میں ایک ہفتے کے لیے بڑے اجتماعات پر پابندی لگا دی تھی۔
منگلور میں بھی 15 سے 19 مارچ تک بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ اڈپی میں آج اسکول اور کالج بند ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…