خلیجی ریاست بحرینی سوسائٹی نے “فلسطین ستنتصر رابطہ گروپ ” پر فرانس میں پابندی عاید کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے فرانسیسی حکومت کی فلسطینیوں کے خلاف تعصب پر مبنی پالیسی کی عکاسی قرار دیا۔
اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن کے خلاف سرگرم بحرینی سوسائٹی نے ہفتے کے روز فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ درمانین کے “نصرت فلسطین رابطہ گروپ ” کو تحلیل کرنے کے فیصلے کی مذمت کی۔
ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں ایسوسی ایشن نے تنظیم کے ساتھ اپنی یکجہتی اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے اس کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ فرانسیسی فیصلہ ایک “حملہ ہے جو یورپی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت فرانس کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی عکاسی کرتا ہے۔”
بیان مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیل کے بائیکاٹ کی بڑھتی ہوئی مہم کو خاموش کرنے کی کوشش ہے اور فلسطین کی آزادی کی حمایت، دھمکیوں اور مجرمانہ کارروائیوں کومیں قابض ریاست کی مدد کے مترادف ہے۔
“نصرت فلسطین ” نے گذشتہ جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ درمانین نے صدر ایمانوئل میکرون کی ہدایت پر تنظیم اور ایک اور فلسطینی حامی گروپ کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…