جمعے کی شام مقبوضہ فلسطینی شہر یافا میں بیس سال کی عمر کے ایک فلسطینی نوجوان کو بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔ قابض پولیس کو اس کی جلی ہوئی لاش تل ابیب کے ایک پارک سے ملی۔
مقامی ذرائع نے کہا کہ یہ نوجوان محمد رفیع کئی دن پہلے لاپتہ تھا۔ اس کے اغوا، ہتھکڑیاں لگانے اور تل ابیب کے جنوب میں ایک پارک میں آگ لگانے کے بارے میں شبہات پیدا ہوئے تھے۔
لاش کو ابو کبیر (یافا کا ایک محلہ) کے فرانزک میڈیسن انسٹی ٹیوٹ کے حوالے کر دیا گیا جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد اس کی موت کی وجہ معلوم کی جاسکے گی۔
اسرائیلی عدالت نے 18 جنوری تک تفتیش، یا مشتبہ افراد کی شناخت کو عام کرنے سے روکنے کا حکم جاری کیا ہے فوجداری تحقیقات نے اب تک جرم کے حالات کا انکشاف نہیں کیا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ1948ءکے مقبوضہ عرب علاقوں میں انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کا سلسلہ معمول بن چکا ہے۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کے ان مجرمانہ واقعات میں اسرائیلی ریاست کی منظم چشم پوشی اور دانستہ لاپرواہی واضح دکھائی دیتی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…