قابض اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں ایک فلسطینی بچے کو گولیاں مار دیں جس کےنتیجے میں وہ دم توڑ گیا۔
مقامی طبی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے 13 سالہ محمد دعدس کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ نے معائنے سے پتا چلایا تو بچے کا دل کام کرنا چھوڑچکا تھا۔ اس کے پیٹے میں گولیاں لگی تھیں جس اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ بچے کو شدید زخمی حالت میں اسپتال لایا گیا تھا جہاں اس کی زندگی بچانے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔
ادھر غرب اردن میں نابلس شہرمیں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ قابض فوج نے فلسطینیوں پرآنسوگیس کی شیلنگ اور دھاتی گولیوں کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔
نابلس میں ہلال احمر کے ڈائریکٹر احمد جبریل نے بتایا کہ بیتا اور بیت دجن کے مقام پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 71 فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔
ادھر بیتا میں میونسپل کونسل کے وائس چیئرمین موسیٰ حمایل نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے بیتا میں مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کرنے والے دو کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار