زاہدان (سنی آن لائن) ایران کے سب سے بڑے دینی ادارہ جامعہ دارالعلوم زاہدان کے استاذ مولانا ادہم سپاہی طویل علالت کے بعد بروز ہفتہ سات اگست دوہزار اکیس کو یزد کے ایک اسپتال میں انتقال کرگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا ادہم سپاہی تین سے زائد مہینے بستر علالت میں رہنے کے بعد اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ مرحوم رمضان کے آخری عشرہ سے آخری دم تک مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج رہے۔
مولانا ادہم سپاہی نے عربی زبان و ادب میں ماسٹر کرنے کے بعد اسکولوں میں پڑھانے کا کام شروع کیا۔ پھر زاہدان کی مختلف یونیورسٹیوں میں عربی زبان و ادب پر لیکچر دیتے رہے اوراس دوران دینی تعلیم حاصل کرنے کی سعادت بھی حاصل کی۔
ریٹائرمنٹ کے بعد جامعہ دارالعلوم زاہدان سے دورہ حدیث پڑھ کریہیں خدمت کے لیے رہ گئے۔ آپؒ جامعہ میں شعبہ تحقیق و تصنیف کے سربراہ اور سہ ماہی رسالہ ندائے اسلام کے مقالہ نگار مقرر ہوئے جبکہ شعبہ تخصص فی الادب العربی، شعبہ صحافت و فارسی ادب اور شام کی کلاسوں میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔صرف و نحو، بلاغت اور فن ترجمہ میں انہیں خاص مہارت حاصل تھی۔
شورائے مدارس اہل سنت کے نصاب کو جدید معیاروں کے مطابق از سر نو مرتب کرنا اور تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے شام کی کلاسوں کے نصاب کی تدوین و ترتیب بھی ان کی خدمات میں شامل ہیں۔
مختلف دینی و سماجی شخصیات نے تعزیتی پیغام دیتے ہوئے مولانا سپاہی کے انتقال پر رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔
مرحوم کی نماز جنازہ آٹھ اگست کو ان کے آبائی علاقہ سِب (ضلع سیب سوران، بلوچستان) میں ادا کی جائے گی۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…