غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان حکومتی وفد کی قیادت افغانستان کی اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ اور طالبان وفد کی قیادت ملا عبدالغنی برادر کررہے ہیں۔
دوحہ مذاکرات میں سابق صدر حامد کرزئی اور متعدد اعلٰی شخصیات بھی شرکت کررہی ہیں۔ عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے تاہم مذاکرات کی میز پر امن کی اشد ضرورت ہے، امید ہے کہ طالبان ان مذاکرات کو امن کے موقع کے طور پر دیکھیں گے اور اس بات کو سمجھیں گے کہ زیادہ سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کرنے سے امن قائم نہیں ہوسکتا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں بھی آج سے تین روزہ افغان امن کانفرنس ہونی تھی جو افغان صدر کی درخواست پر ملتوی کردی گئی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…