Senator Sarfraz Ahmed Bugti and Senator Anwaar ul Haq Kakar call on Prime Minister Imran Khan at Islamabad on 9th July, 2021
بلوچستان میں مزاحمتی جدوجہد کرنے والے ناراض قبائلیوں کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنے سے متعلق بیانات کے چند دن بعد وزیر اعظم عمران خان نے سابقہ وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اور انوار الحق کاکڑ سمیت دیگر قانون سازوں سے صوبے میں سازگار ماحول اور ہم آہنگی پیدا کرنے پر زور دیا ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم آفس سے جاری ایک بیان کے مطابق سینیٹرز نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور صوبے کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر اعظم عمران خان بلوچستان میں صوبے میں مستقل امن اور خوشحالی لانے کے لیے قانون سازوں سے تجاویز حاصل کیں، اس کے علاوہ حالیہ ترقیاتی پیکیج کے معاشی اثرات اور بلوچوں کی زندگی پر اثر انداز سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اس ملاقات کے نجی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ وزیر اعظم نے پارٹی کے اراکین اسمبلی سے کہا کہ وہ صوبے میں ناگوار قبائل کو راضی کرنے کے لیے ہم آہنگی کی فضا پیدا کریں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت جلد ہی ناراض قبائل سے بات چیت کے لیے قانون سازوں اور سینئر سرکاری عہدیداروں پر مشتمل ایک اعلی طاقت کمیٹی تشکیل دے گی۔
چند روز قبل وزیر اعظم نے جمہوری وطن پارٹی (جے ڈبلیو پی) کے سربراہ شاہ زین بگٹی کو بلوچستان میں مفاہمت اور ہم آہنگی سے متعلق اپنا خصوصی معاون مقرر کیا اور انہیں حکومت کی جانب سے قبائل کے ساتھ بات چیت کی ذمہ داری سونپی تھی۔
اس ملاقات سے متعلق ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نے پارٹی کے اراکین اسمبلی سے کہا کہ وہ صوبے میں ناراض قبائل کو راضی کرنے کے لیے ہم آہنگی کی فضا پیدا کریں۔
وزیر اعظم عمران خان نے گوادر کے حالیہ دورے کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ بلوچستان میں ’باغیوں سے بات چیت‘ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ماضی میں اس پر توجہ دی جاتی تو حکومت کو کبھی بھی شورش سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کو کہا کہ حکومت ناراض بلوچ قبائل سے بات چیت کے لیے تیار ہے اور صوبے میں پائیدار امن اور ترقی کو یقینی بنائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’لیکن بھارت سے روابط رکھنے اور صوبے میں بدامنی میں ملوث افراد کو مذاکرات کے لیے نہیں سمجھا جائے گا‘۔
وزیر نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان میں 731 ارب روپے کے 131 منصوبوں پر عملدرآمد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ صوبائی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران ترقیاتی پروگرام کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
انہوں نے کہا ’بلوچستان عمران خان کے دل کے قریب ہے‘۔
دریں اثنا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کے لیے استعمال کررہا ہے اور عالمی برادری سے اس کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…