طالبان نے افغانستان کے مختلف صوبوں کے 5 اہم اضلاع کا حکومتی فورسز سے کنٹرول حاصل کرکے اپنی عمل داری قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں لکھا کہ زابل، اورزگان، غزنی اور نورستان کے اہم اضلاع کا کنٹرول حکومتی فورسز کو پسپا کرکے حاصل کرلیا ہے۔
قبل ازیں طالبان نے میدان وردک، بغلان اور لغمان کے چار اضلاع میں بھی اپنی حکومت قائم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس طرح مجموعی طور پر 9 اضلاع پر طالبان کی مکمل حکمرانی قائم ہوچکی ہے۔
اس حوالے سے افغانستان کے وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے عالمی خبر رساں ادارے سے بات چیت کی، انہوں نے طالبان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان سیکیورٹی فورسز نے حکمت عملی کے تحت پسپائی اختیار کی ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان جنگجوؤں نے زابل سمیت 5 صوبوں کے مختلف اضلاع میں داخل ہوکر سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر قبضہ کرلیا اور گھمسان کی جھڑپ کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔
واضح رہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا کا آغاز ہوچکا ہے جس کی تکمیل 11 ستمبر تک ہوجائے گی تاہم اس دوران طالبان اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں تیزی آگئی ہے جس میں کئی محاذوں پر فتح طالبان کو حاصل رہی ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…