بھارت میں کورونا وبا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث مسلمانوں نے مساجد کواسپتالوں میں تبدیل کردیا ہے۔
مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہا پسندی اوربربریت کے باجود بھارتی مسلمان بھی بھارت میں کورونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث انسانیت کا جذبہ لیے آگے آگے ہیں۔
مغربی ریاست گجرات میں ایک مسجد کو50 بستروں کے اسپتال میں تبدیل کیا گیا ہے۔ مساجد میں مسلمانوں کی جانب سے تشویشناک مریضوں کو آکسیجن فراہم کی جا رہی ہے اوران کے لیے بستروں کا انتظام کیا جارہا ہے۔
مسجد کے منتظم کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال بہترنہیں اورلوگوں کو علاج کے لیے اسپتال میں بستر نہیں مل رہے تو ہم نے متاثرین کے لیے مسجد کوہی اسپتال میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی صورتحال کے پیش نظرکئی دنوں میں ہی مسجد میں تمام بیڈزبھرگئے ہیں۔
دوسری جانب دارالعلوم دیوبند نے بھی 20 نرسوں اور3 ڈاکٹروں کے ساتھ 142 بستروں پر مشتمل اسپتال کی سہولت کورونا وائرس کے مریضوں کو فراہم کی ہے جن میں ہر مذہب کے لوگ زیر علاج ہیں۔ مسجد کی کمیٹی رکن نے کہا کہ ہم کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے ایک ہزاربیڈ پر مشتمل اسپتال بنا سکتے ہیں تاہم آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹ ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید