سری لنکا کی حکومت نے ملک میں مسلمان خواتین کے برقع پہننے اور مدارس پر پابندی لگانے کی منصوبہ بندی کرلی۔
سرلنکا کے پبلک سیکیورٹی کے وزیر رئیر ایڈمرل سراتھ ویراسیکارا نے پریس کانفرنس میں برقع پر پابندی اور مدارس پر پابندی لگانے کی منصوبہ بندی کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ ابتداء میں مسلمان خواتین برقع نہیں پہنتی تھیں لیکن اب برقع مذہبی انتہاپسندی کی علامت ہے اور اس پر جلد پابندی لگانے والے ہيں۔
سری لنکا کے وزیر نے کہا کہ مدارس بند کرنےکی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، نئی قومی تعلیمی پالیسی کے بعد سری لنکامیں کوئی اپنا اسکول نہیں کھول سکے گا۔
سری لنکا کی جانب سے مدارس پر پابندی کے باعث ایک ہزار سے زائد مدارس بند کیے جائیں گے۔
رئیر ایڈمرل سراتھ ویراسیکارا نے بتایا کہ میں نے پابندی کے دستاویزات پر دستخط کردیے ہیں جس کی اب کابینہ سے منظوری لی جائے گی جبکہ یہ پابندی ‘قومی سلامتی’ کے تحت عائد کی جائیں گی۔
خیال رہے کہ سری لنکا میں مسلمان اقلیت میں ہیں اور گزشتہ کئی ماہ سے کورونا سے جاں بحق مسلمانوں کی میتوں کو جلانے پر سراپا احتجاج تھے تاہم حال ہی میں امریکا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کے بعد کورونا سے جاں بحق مسلمانوں کی میتوں کو جلانے کے بجائے دفنانے کی اجازت دی گئی ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…