شمالی فرانس کے شہر مونٹ میگنے میں مسجد کو بند کرانے پر مقامی میئر نے مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
مونٹ میگنے میں ایک مسجد کو وزارت داخلہ کی جانب سے بند کرانے پر میئر نے میکرون حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حکومت کی نااہلی قرار دیا ہے۔
میئرکا کہنا ہےکہ بند کرائی گئی مسجد گذشتہ 5 سال سے بغیر کسی تنازعے کے موجود تھی اور اسے تالا لگانے کاکوئی سوال نہیں اٹھتا تھا۔
خیال رہے کہ فرانسیسی حکومت نے انتہاپسندی پھیلانےکے الزام میں گذشتہ دنوں 9 مساجد کو بند کروادیا ہے جب کہ وزیر داخلہ کے مطابق مزید 9 مساجد ہیں جن کی نگرانی کی جارہی ہے۔
یہ سب کارروائیاں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی جانب سے اعلان کردہ ‘میثاقِ جمہوری اقدار’ کے تحت کی جارہی ہیں۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید