عالم اسلام

قطر-سعودی عرب کے درمیان سرحد تین سال بعد کھول دی گئی

قطر اور سعودی عرب نے ساڑھے تین سال سے جاری تنازع کے خاتمے کے تاریخی معاہدے کے بعد زمینی رابطہ بحال کرتے ہوئے سرحد کھول دی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قطری ذرائع کا کہنا تھا کہ دوحہ سے 120 کلومیٹر جنوب میں ابو سمرہ سرحد پر ٹریفک کی روانی ہفتے کی صبح سویرے شروع ہوگئی۔
سرحد کھولنے کی خبر کے بعد صرف چند کاروں کی قطار نظر آئی اور سعودی عرب جانے کے لیے چیک پوسٹ پر کھڑی ہوگئیں۔
دوسری جانب سعودی عرب سے بھی بہت کم آمد ہوئی جس کی ایک وجہ کورونا وائرس کے باعث اپنائے گئے سخت اقدامات بھی ہیں۔
سعودی عرب جانے کے لیے سرحد میں چیک پوسٹ پر پہنچنے والے قطر کے شہری جبیر المری کا کہنا تھا کہ ‘میں بہت خوش ہوں کہ سرحد دوبارہ کھل گئی ہے، قطریوں کے رشتہ دار سعودی عرب میں موجود ہیں’۔
قطر کے ایک اور شہری حماد المری کا کہنا تھا کہ وہ خلیج کی مشہور شکار گاہ میں شکار کا موقع ملنے پر بہت خوش ہیں اور ہفتہ وار چھٹیاں وہاں گزاریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہاں جا کر شکار بھی کروں گا اور اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزاروں گا۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ ‘ہم سعودی عرب میں اپنے خاندانوں سے ملیں گے اور اس اقدام سے ہر ایک خوش ہے کہ ہم مکہ اور مدینہ جاسکتے ہیں’۔
یاد رہے کہ سعودی عرب نے جون 2017 میں قطر کے ساتھ سرحد کو مکمل طور پر بند کرتے ہوئے دیگر پابندیاں عائد کردی تھیں۔
سعودی عرب نے دہشت گردوں کی معاونت اور ایران کے ساتھ تعلقات کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ اقدام کیا تھا جبکہ قطر مسلسل ان الزامات کو مسترد کرتا رہا۔
قطر کے خلاف اقدامات میں سعودی عرب کے ساتھ متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر بھی شامل ہوگئے تھے اور تمام ممالک نے تجارت اور سفر سمیت تمام رابطوں کو منقطع کردیا تھا۔
گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے شہر العلا میں خلیج تعاون تنظیم (جی سی سی) کے اجلاس میں قطر کے امیر نے بھی شرکت کی تھی جہاں تعلقات کی بحالی کے معاہدے پر دستخط ہوگئے تھے۔
جی سی سی کے اجلاس سے ایک روز قبل کویت کے وزیرخارجہ احمد نصیر الصباح نے سرکاری ٹی وی پر اعلان کیا تھا کہ معاہدے پر اتفاق ہوگیا ہے اور اس کے تحت سعودی عرب اور قطر فضائی، زمینی اور بحری راستے بحال کریں گے۔
خیال رہے کہ 6 جنوری کو سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے قطر کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
سعودی عرب کے شہر العلا میں 6 رکنی خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سربراہی اجلاس میں ’یکجہتی، استحکام‘ کے نام سے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جی سی سی اجلاس سے خطاب میں کہا تھا کہ ‘آج ہمیں اپنے خطے میں اتحاد کو فروغ دینے اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے’۔
انہوں نے کہا تھا کہ ‘خاص طور پر ایرانی حکومت کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام اور تخریب کاری اور تباہی کے منصوبوں سے لاحق خطرات بڑے چیلنجز ہیں’۔
بعد ازاں متحدہ عرب امارات کے عہدیدار نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ عرب ریاستیں امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے تحت ایک ہفتے کے اندر قطر کے ساتھ بائیکاٹ کے خاتمے کے بعد دوبارہ تجارت اور سفری رابطے بحال کرسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ سفارتی تعلقات کی بحالی میں مزید وقت لگے گا کیونکہ فریقین کو اعتماد کی بحالی میں وقت درکار ہے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ انور قرقاش نے کہا تھا کہ ان اقدامات میں عملی طور پر ایئرلائنز، شپنگ اور تجارت شامل ہے۔
قطر ایئرویز کا کہنا تھا کہ اس کی بعض پروازیں سعودی فضائی حدود سے شروع کی جائیں گی۔

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago