انڈونیشیا کی پارلیمنٹ نے باورکرایا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کےبارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ‘پارلیمان برائے القدس’ رابطہ گروپ کے وائس چیئرمین اور انڈونیشی پارلیمنٹ کے بین الاقوامی تعاون کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فضلی زون نے کہا کہ اسرائیل نے ان کے ملک پر تعلقات استوار کرنے کے لیے دبائو ڈالا ہے۔ امریکا نے اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کےعوض انڈونیشیا کو معیشت بہتر بنانے کے لیے دو ارب ڈالر کی بھی پیش کش کی ہے۔
انہوںنے مزید کہا کہ انڈونیشیا کیوں کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرے گا جب کہ دوسری طرف فلسطین کی صورت حال ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ امریکا کی اسرائیل کی اندھی طرف داری کےنتیجے میں فلسطینی قوم کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی دوسرے مسلمان اور عرب ممالک کو بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پرمجبور کیا ہے۔
انڈونیشیا کی پارلیمنٹ کے رکن اور وزیر خارجہ نے حال ہی میں ایک بیان میں واضحکیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا فایدہ صرف اسرائیل کو ہوگا اور یہ صہیونی ریاست کی فلسطینی قوم پرفتح اور فلسطینی قوم کے حقوق کی نفی ہوگی۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…