مسجد نبوی سے متصل لائبریری کو شہر پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے باسیوں اور زائرین کے لیے ایک علمی مرکز کا درجہ حاصل ہے۔ شہر مدینہ اور اطراف واکناف سے روضہ رسول پرحاضری دینے کے لیے آنے والے عاشقان رسول حسب توفیق اس علمی اور بحر ذخار سے استفادے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح مسجد نبوی کی لائبریری علم ومعرفت کا ایک اہم مرکز بن چکی ہے۔
سنہ 1352ھ کو بانی سعودی عرب شاہ عبدالعزیز نے مسجد نبوی میں ایک لائبریری کے قیام کی تجویز پیش کی۔ چنانچہ سید احمد یاسین کی زیرنگرانی لائبریری کا قیام عمل میںلایا گیا۔ اس وقت مسجد نبوی میں باب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بالائی منزل کو لائبریری کا درجہ دیا گیا۔ یہ باب مسجد نبوی کی پہلی توسیع کی سمت میں مسجد کے شمال مغرب میں واقع ہے۔
سنہ 1428ھ کو حرمین شریفین جنرل پریذیڈینسی سعودی حکومت کےدور میں مسجد نبوی کی دوسری توسیع کئے بعد لائبریری شمال مغرب کی طرف منتقل کی۔ دوسری توسیع میں لائبری کے تمام ہال وسیع کیےگئے۔ لائبریری تک رسائی کے لیے باب نمبر 10 کی طرف سے ایک برقی زینہ بھی تیار کیا گیا۔
لائبریری کو تشنگان علم کے لیے پورا سال دن کے چوبیس گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کھلا رکھا جاتا ہے۔ اس میں زائرین اور محقیقین کےآرام کے لیے بھی جگہ موجود ہے اور 10 مختلف نوعیت کی ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں۔
لائبریری کا انتظامی دفتر اور دفتر برائے اطفال یونٹ ایک بڑے ہال پر مشتمل ہے۔ اس میں روشنی، ایئرکینڈیشن، سردیوں میں گرمی، زمزم کی فراہمی، کرسیوں، میزوں، قالینوں، کمپیوٹر اور دیگر جدید آلات سمیت ہرطرح کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔
مسجد نبوی میں مجموعی طور پر 516الماریوں میں ایک لاکھ 76 ہزار کتب کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ ان کتب میں بڑی تعداد میں خریدی گئی کتابیں اور بہت سی مفت میں عطیہ کی گئی کتب شامل ہیں۔ لائبریری کو اوسطا ایک گھنٹے میں 300 افراد وزٹ کرتے ہیں۔ کتب کی درجہ بندی کرتے ہوئے 72 اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کتب کی ترتیب حروف تہجی کے مطابق تیار کی گئی ہے۔
بچوں کے لیے مخصوص سیکشین میں سیرت نبوی، کہانیوں اور یگر بچوں کے لٹریچر کی 130 موضوعات پر کتب موجود ہیں۔
لائبریری میں مخطوطات سیکشن پہلی منزل اور بان عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ میں قائم ہے۔ مخطوطات میں کتب، پرانے زمانوں کے قرآن پاک کے نسخے، ڈیجیٹل تصاویر اور جدید آلات اور کمپیوٹر بھی موجود ہیں۔
دنیا بھر میں لکھے گئے قرآن پاک کے 600 مصاحف، 250 مطبوعہ نسخے،1040 مجلد اور 1550 عنوانات پر رسالے اور 2 لاکھ 60 ہزار ڈیجیٹل مخطوطے محفوظ ہیں۔
لائبریری کی کتب کی سالانہ کی بنیاد پر چھانٹی کی جاتی ہے۔ تقریبا ہر سال 12 ہزار کتابوں کی جلد کی جاتی ہے یا انہیں نئے سرے سے طبع کیا جاتا ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…