زاہدان (سنی آن لائن) شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایران میں پھانسی کی سزاؤں میں کمی لانے پر زور دیتے ہوئے ایسی سزاؤں کے سیاسی اور سماجی نتائج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مجرموں کی اصلاح اور رہائی پر زور دیا۔
ممتاز سنی عالم دین نے اپنے درس قرآن کے ایک حصے میں سورت الکہف کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: ایران سمیت متعدد ملکوں میں کچھ مجرموں کو پھانسی دی جاتی ہے، حالانکہ عدلیہ حکام اور قانون ساز ادارے پھانسی پر زور دینے کے بجائے مجرموں کی اصلاح کی کوشش کرتے، اس کے بہت مثبت اثرات ظاہر ہوجاتے تھے۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: ملک میں بہت سارے نوجوان پھانسی کی سزا پاچکے ہیں، ہرچند یہ لوگ شدت پسندی کا شکار تھے، لیکن ان کی اصلاح عین ممکن تھی اور ان سے ضمانت لے کر انہیں رہا کیاجاسکتا۔
انہوں نے کہا: لوگوں کو پھانسی دینا اور انہیں راستہ سے ہٹانے کے متعدد منفی اثرات اندرونی اور بیرونی طورپر نکلتے ہیں اور ہمارے ملک پر خارجی دباؤ بڑھ جاتاہے۔ ایسا طریقہ کیوں نہ اپنایاجائے کہ دوسروں کو بہانہ نہ ملے؟
صدر دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: ایسی تدبیر اپنانی چاہیے کہ پھانسی کی سزاؤں میں کمی آجائے۔ گزشتہ چالیس سالوں میں متعدد قوانین ملک میں نافذ ہوئے جن کے خاطرخواہ نتائج نہیں نکلے، پھانسی کی سزا ان میں شامل ہے۔ ایسے قوانین میں نظرثانی کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا: نبی کریمﷺ اور خلفائے راشدین کے دور میں پھانسی کی سزائیں بہت کم تھیں جو قصاص یا میدان جنگ میں مارے گئے تھے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہروان کی لڑائی کے بعد کچھ خوارج گرفتار ہوئے، لیکن سیدنا علیؓ نے کسی کو قتل نہیں کیا حالانکہ لڑائی ان کے ساتھی شہید ہوئے تھے۔ جمل اور صفین کی لڑائیوں کے بعد بھی مخالف فوج کے افراد گرفتار ہوئے، لیکن حضرت علی نے ایک شخص کو بھی قتل نہیں کیا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…