فرانسیسی صدر مسلمانوں پر مزید پابندیوں پر مشتمل پہلے سے بھی زیادہ سخت قوانين متعارف کروانے کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایمانیول میکخواں کا کہنا ہے کہ ’’چارٹر آف ريپبلکن ويليوز” کا مقصد مسلمانوں کو انتہاپسندی سے روکنا ہے۔
اس حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ايمانيول ميکخواں نے فرنچ کونسل آف مسلم فيتھ کو وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر لائحہ عمل بنانے کے لیے 15 دن کی مہلت دی ہے۔
اس قانون سازی کے بعد سی ايف سی ايم نينشل کانسل آف امام تشکيل دے گی۔ مساجد ميں اماموں کو حکومت کي مرضی سے لگايا اور ہٹايا جاسکے گا۔چارٹر کا مقصد يہ واضح کرنا ہے کہ اسلام مذہب ہے کوئی سياسی تحريک نہيں۔
اس چارٹر کے تحت ملک ميں مسلمانوں کے معاملے پر غير ملکي مداخلت کو روکا جائے گا ۔ نئے قوانين کے تحت مسلمان بچوں کی گھروں ميں تعليم دینے پپر پابندی ہوگی۔
مسلمان بچوں کو آئي ڈی نمبر جاری ہوگا جس سے ان کے اسکول جانے کا ريکارڈ رکھا جائے گا۔ جو مسلمان والدين بچوں کو اسکول ميں نہيں پڑھائيں گے انھیں 6 ماہ قيد اور بھاری جرمانے ہوں گے۔اس چارٹر میں مذہبی بنيادوں پر سرکاری حکام سے الجھنے پرسخت سزائيں دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دو ماہ سے فرانس میں مسلمانوں نفرت انگیز سلوک کا سامنا ہے جب کہ کئی مساجد کو بند کردیا گیا ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد سے فرانس میں اسلام مخالف اقدامات میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس سے قبل بھی فرانس میں مسلمان خواتین کے حجاب پہننے سمیت دیگر مذہبی علامات پر پابندی عائد ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید