طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے ایک سینئر ممبر ، مولوی عبدالسلام حنفی نے اسلامی مذاہب و مسالک کے بارے میں طالبان کی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ہم کسی کو بھی افغانستان میں مذہبی اختلافات پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
سنی آن لائن کے مطابق ، مولوی عبدالسلام حنفی نے الامارہ اسٹوڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے بین الافغان مذاکرات میں حنفی فقہ کو معیار بنانے کے حوالے سے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا: بین الافغان مذاکرات میں یہ موقف پیش کرنا کہ نصوص کی تفسیر میں اختلاف پیش آنے کی صورت میں فقہ حنفی سے رجوع کیاجائے گا، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنے شیعہ بھائیوں کے خلاف امتیازی سلوک اور تعصب پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا: خدا کا شکر ہے افغانستان میں شیعوں اور سنیوں کے درمیان کوئی فرق اور امتیازی سلوک نہیں ہے اور وہ صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ بھائی بھائی بن کر ساتھ رہ رہے ہیں۔
طالبان مذاکراتی ٹیم کے ادارتی نائب نے کہا: ہم افغانستان میں کسی کو بھی مذہبی اختلافات پیدا کرنے اور شیعوں اور سنیوں کے مابین تفریق پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
مولوی عبدالسلام نے مزید کہا: امارت اسلامیہ (طالبان) کی حکمرانی کے دوران ، ہمارے شیعہ بھائیوں کے ذاتی معاملات مکمل طور پر ان ہی کی فقہ کے مطابق تھے اور مستقبل میں بهی امارت اسلامیہ کو اس سلسلے میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…