طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے ایک سینئر ممبر ، مولوی عبدالسلام حنفی نے اسلامی مذاہب و مسالک کے بارے میں طالبان کی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ہم کسی کو بھی افغانستان میں مذہبی اختلافات پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
سنی آن لائن کے مطابق ، مولوی عبدالسلام حنفی نے الامارہ اسٹوڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے بین الافغان مذاکرات میں حنفی فقہ کو معیار بنانے کے حوالے سے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا: بین الافغان مذاکرات میں یہ موقف پیش کرنا کہ نصوص کی تفسیر میں اختلاف پیش آنے کی صورت میں فقہ حنفی سے رجوع کیاجائے گا، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنے شیعہ بھائیوں کے خلاف امتیازی سلوک اور تعصب پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا: خدا کا شکر ہے افغانستان میں شیعوں اور سنیوں کے درمیان کوئی فرق اور امتیازی سلوک نہیں ہے اور وہ صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ بھائی بھائی بن کر ساتھ رہ رہے ہیں۔
طالبان مذاکراتی ٹیم کے ادارتی نائب نے کہا: ہم افغانستان میں کسی کو بھی مذہبی اختلافات پیدا کرنے اور شیعوں اور سنیوں کے مابین تفریق پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
مولوی عبدالسلام نے مزید کہا: امارت اسلامیہ (طالبان) کی حکمرانی کے دوران ، ہمارے شیعہ بھائیوں کے ذاتی معاملات مکمل طور پر ان ہی کی فقہ کے مطابق تھے اور مستقبل میں بهی امارت اسلامیہ کو اس سلسلے میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید