FILE - In this May 28, 2019, file photo, Mullah Abdul Ghani Baradar, the Taliban group's top political leader, second left, arrives with other members of the Taliban delegation for talks in Moscow, Russia. U.S. peace envoy Zalmay Khalilzad held on Saturday, Dec. 7, 2019 the first official talks with Afghanistan's Taliban since last September when President Donald Trump declared a near-certain peace deal with the insurgents dead. (AP Photo/Alexander Zemlianichenko, File)
طالبان کا وفد قطر پہنچ گیا جس کے بعد افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے آغاز کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بتایا کہ ‘ہماری مذاکراتی ٹیم کے تمام اراکین دوحا پہنچ چکے ہیں، چند چھوٹے تکنیکی مسائل کے حل کے بعد مذاکرات کا آغاز ہوگا۔’
یہ بین الافغان مذاکرات امریکا اور طالبان کے درمیان رواں سال فروری میں دوحا میں ہونے والے امن معاہدے کا حصہ ہیں۔
امریکا کی جانب سے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے مسلسل زور دیا جارہا ہے، تاکہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کیا جاسکے۔
امریکا کے مشیر قومی سلامتی رابرٹ او برائن نے گزشتہ ہفتے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ٹیلی فونک گفتگو بھی کی تھی۔
واشنگٹن کی جانب سے پاکستان پر بھی طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔
طالبان کے وفد نے حال ہی میں امن مذاکرات پر تبادلہ خیال کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم تاحال کابل میں ہی موجود ہے، تاہم لاجسٹک ٹیم رواں ہفتے دوحا پہنچی تھی۔
افغان حکومت کی مفاہمتی کونسل کے ترجمان فریدون خازون نے کہا کہ ان کی مذاکراتی ٹیم بات چیت کے لیے تیار ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ‘قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور اب مذاکرات میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں ہے۔’
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ‘طالبان مذاکرات کے لیے تیار نظر نہیں آرہے، ہم ان سے جلد مذاکرات کے آغاز کی امید رکھتے ہیں۔’
واضح رہے کہ طالبان اور امریکا کے درمیان معاہدے کے مطابق بین الافغان مذاکرات کا آغاز مارچ میں ہونا تھا۔
تاہم قیدیوں کے تبادلے اور موجودہ کشیدگی پر اختلافات کے باعث مذاکرات میں مسلسل تاخیر ہوتی رہی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…