ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میانمار میں فضائی بمباری میں بچوں اور خواتین سمیت معصوم شہریوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برمی فوج رخائن اور چن صوبوں میں اقلیتوں کے خلاف جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ میانمار کی فوج انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوئی ہےجس نے رخائن میں روہنگیا مسلمانوں اور چن اقلیتیوں کی آبادیوں پر فضائی بمباری کی جس کی زد میں آکر بچے اور خواتین بھی مارے گئے۔
اینسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا کہ روہنگیا اور چن اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے، انٹرنیٹ سروس ایک برس سے معطل ہے جب کہ کورونا وبا سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں اس طرح رخائن اور چن صوبوں کے عوام تہرے عذاب میں مبتلا ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رواں برس مئی اور جون کے درمیان رخائن اور چن صوبوں کے متعدد شہریوں کے انٹرویوز کیے جنہوں نے برمی فوج کے مظالم سے متعلق ہوشربا انکشافات کیے۔ ان کے علاقوں میں فضائی بمباری کی گئی، گھروں کو مسمار کیا گیا اور غیر قانونی گرفتاریاں کی گئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برمی فوج جنگی جرائم کی مرتکب ہورہی ہے۔
واضح رہے کہ 2017 میں میانمار فوج کے مظالم اور نسل کشی کے باعث 7 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان ہجرت کرکے بنگلا دیش کے کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں جب کہ مئی سے شروع ہونے والی کارروائیوں کے بعد سے بھی 10 ہزار روہنگیا مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) عصر حاضر کی ایک نہایت اہم اور تیزی سے ترقی کرنے…
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔