مسلم اقلیتیں

میانمار: رخائن میں فوجی آپریشن کی تیاریاں، ہزاروں شہری بے گھر

میانمار کی فوج نے مغربی ریاست رخائن میں آپریشن کی تیاریاں شروع کردی ہیں جس کے بعد ہزاروں افراد گھر بار چھوڑ کر علاقے سے ہجرت کرگئے۔
خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں اور ایک رکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے فوجی آپریشن کی تنبینہ کے بعد رخائن سے ہزاروں افراد چلے گئے ہیں۔
دوسری جانب حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ حکم سرحدی امور کے عہدیداروں کی جانب سے جاری کیا گیا تھا جو مقامی انتظامیہ کے ذریعے پہنچایا گیا تاہم یہ حکم چند گاؤں کے لیے تھا۔
حکومتی وزیر کرنل من تھان نے شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کے لیے جاری کیے خط کی تصدیق کی۔
خط ریتھیڈونگ کے ایڈمنسٹریٹر آنونگ مائنٹ تھین کے دستخط سے جاری ہوا جس میں انہوں گاؤں کے سربراہوں سے کہا کہ کیوکٹان اور قریبی علاقوں میں آپریشن کی تیاری کی گئی ہے جہاں انتہاپسندوں کی موجودگی کے شبہات ہیں۔
مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری خط میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ احکامات کس نے جاری کیے ہیں۔
رخائن کے سرحدی امور اور سیکیورٹی کے وزیر من تھن نے کہا کہ یہ احکامات سرحدی امور کی وزارت سے جاری ہوئے ہیں اور یہ ان وزارتوں میں سے ایک ہے جو فوج کے پاس ہیں۔
ایڈمنسٹریٹر نے خط میں کہا ہے کہ ‘مذکورہ گاؤں میں فوج کی جانب سے کلیئرنس آپریشن کیا جائے گا’۔
رخائن میں موجود مبینہ انتہاپسند اراکان آرمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ‘اس کارروائی کے دوران اراکان آرمی کے دہشت گردوں فائرنگ کریں گے اس لیے گاؤں میں کوئی موجود نہ ہواور عارضی طور پر وہاں سے دوسری جگہ منتقل ہوجائیں’۔
من تھن نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر نے ان احکامات کو غلط سمجھا اور یہ آپریشن بتائے گئے درجنوں گاؤں میں نہیں بلکہ چند گاؤں میں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ایک ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے اور جو باقی رہ جائیں گے وہ اراکان آرمی کے ہمدرد ہوں گے۔
حکومتی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ کلیئرنس کی اصطلاح استعمال نہ کرے۔
خیال رہے کہ 2017 میں فوج کی زیر قیادت کیے گئے آپریشن کے بعد تقریباً ساڑھے 7 لاکھ روہنگیا مسلمانوں نے میانمار سے بھاگ کر بنگلہ دیش میں سرحد پر واقع کیمپوں میں پناہ لی تھی۔
اقوام متحدہ نے اس معاملے پر اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ یہ فوجی کارروائی روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی غرض سے شروع کی گئی تھی۔
اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے میانمار کے اس عمل کو نسل کشی قرار دیا تھا اور حکومت میں شراکتی فوج کو اس میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔
رواں برس اپریل میں بھی سیکڑوں روہنگیا مسلمان رخائن سے ہجرت پر مجبور ہوئے تھے لیکن انہیں بنگلہ دیش سمیت پڑوسی ممالک نے داخلے کی اجازت نہیں دی تھی اور وہ کئی روز تک کشتی میں سوار ہو کر سمندر میں سرحدوں کے چکر لگاتے رہے۔
بعدازاں بنگلہ دیش نے داخلے کی اجازت دے دی تاہم وزیر خارجہ اے کے عبدالمومن کا کہنا تھا کہ ‘یہ بنگلہ دیش کی ذمہ داری نہیں ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ پہلے میانمار کی حکومت کو کہیں کیونکہ وہ ان کے شہری ہیں’۔

baloch

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago