زاہدان (سنی آن لائن) ایرانی بلوچستان کے صدرمقام زاہدان میں مقیم ممتا زعالم دین مولانا عبدالحمید نے پولیس اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گزشتہ دنوں بلوچستان کے ضلع ایرانشہر میں پولیس کی فائرنگ سے قتل ہونے والے تین بلوچ نوجوانوں کے واقعے میں شفاف تحقیقات کرکے نتائج سامنے لائیں۔
بدھ تیرہ مئی کو دارالعلوم زاہدان میں درس قرآن کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ایرانشہر میں قتل ہونے والے تین نوجوانوں کے کیس میں کچھ شکوک و شبہات اور ابہام پایاجاتاہے جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: ہمیں اس واقعے کی مکمل معلومات حاصل نہیں ہیں، لیکن متعلقہ حکام مسئلہ واضح کرکے حقیقت عوام کے سامنے لائیں تاکہ ان کی پریشانیاں دور ہوجائیں۔
انہوں نے ڈکیتی کے الزام میں قتل ہونے والے نوجوانوں کے کیس کی حقیقت سامنے لانے پر زور دیتے ہوئے کہا: حقیقت چاہے کسی بھی گروہ کے خلاف ہو، پھر بھی واضح ہونی چاہیے۔
ممتاز بلوچ سنی رہ نما نے کہا: جب ایک پولیس اہلکار جرم کا ارتکاب کرتاہے، اس کا خطرہ ایک عام آدمی کے جرم سے زیادہ بھاری ہے۔ پولیس کی ذمہ داری امن قائم کرنا ہے، لیکن اگر پولیس کسی کو ناحق قتل کرے اس سے امن تباہ ہوگا۔
انہوں نے پولیس سمیت دیگر حکام سے مطالبہ کیا اس کیس میں اگر کوئی ناجائز کام ہوا ہے، ملزم اہلکاروں کو عدالت کے سپرد کیا جائے۔
مولانا عبدالحمید نے عدلیہ حکام سے مطالبہ کیا اس بارے میں مقتولین کے اہل خانہ کی شکایات پر توجہ دی جائے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…