انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے بھارتی شہر دہلی میں مسلم کش فسادات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انڈونیشین میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ نے دارالحکومت جکارتہ میں بھارتی سفیر کو طلب کرکے دہلی میں مسلمانوں کی جان و املاک پر حملوں کے بارے میں استفسار کیا۔
انڈونیشین وزارت خارجہ نے انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ بھارتی حکومت ان فسادات پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائے گی۔
انڈونیشین وزیر مذہبی امور فضل الراضی نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف خونریزی کی شدید مذمت کرتے انہیں غیر انسانی اور مذہبی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ وزیر مذہبی امور نے بھارت پر اقیلتوں کے جان و مال کی تحفظ کے لیے زور دیا۔ انہوں نے بھارت اور اپنے ملک کے مذہبی رہنماؤں کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کا درس دیا۔
فضل الراضی نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں پر حملوں کا بدلہ لینے کے لیے شرپسند عناصر انڈونیشیا میں حملے کرسکتے ہیں۔ انڈونیشیا کی آبادی میں 1.69 فیصد ہندو ہیں جس میں سے ایک صوبہ بالی میں ہندوؤں کا تناسب 83 فیصد ہے۔
واضح رہے کہ دہلی میں پولیس اور حکومتی سرپرستی میں انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلم کش فسادات میں جاں بحق افراد کی تعداد 42 ہوگئی ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…