قطر میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان تعطل کے شکار امن مذاکرات بحال ہوگئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغان مذاکرات کو معطل کرنے کے اعلان کے 3 ماہ بعد قطر میں مذاکراتی عمل کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔ مذاکرات کے دوران امریکا کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد اور طالبان مذاکراتی ٹیم کے ارکان نے مذاکرات کو اسی موڑ سے شروع کرنے پر زور دیا جہاں مذاکرات کو معطل کردیا گیا تھا۔
امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد گزشتہ روز ہی واشنگٹن سے کابل پہنچے تھے اور صدر اشرف غنی سے خصوصی ملاقات کی تھی۔ کابل کے بعد زلمے خلیل زاد قطر پہنچے جہاں انہوں نے طالبان نمائندوں سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں افغانستان میں پُر تشدد واقعات روکنے کیلیے حکمت عملی بھی وضع کی جائے گی۔
رواں برس ستمبر میں افغان امن مذاکرات حتمی معاہدے کے قریب پہنچ چکا تھا کہ کابل میں طالبان کے ایک حملے میں امریکی فوجی کی ہلاکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ فریقین کے درمیان بیک ٹو ڈور رابطہ اس وقت شروع ہوا جب طالبان رہنماؤں کی جیل سے رہائی کے بدلے میں مغوی امریکی پروفیسر کی بازیابی عمل میں لائی گئی تھی۔
واضح رہے کہ امریکا افغانستان میں 17 برسوں سے جاری جنگ سے باہر نکلنا چاہتا ہے جس کے لیے افغان طالبان کے ساتھ قطر میں مذاکرات کا عمل شروع کیا گیا تھا جس کے دوران فریقین نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے بحفاظت انخلا اور داعش کو پنپنے نہ دینے کی یقین دہانی پر اتفاق کیا تھا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…