زاہدان (سنی آن لائن) اہل سنت ایران کے ممتاز دینی و سماجی رہ نما نے پیٹرول مہنگا کرنے کے حکومتی فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: یہ فیصلہ تمام جوانب کو مدنظر رکھ کر منظور نہیں ہوا ہے، حکام کو چاہیے نظرثانی کریں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں بائیس نومبر دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں کہا: پیٹرول مہنگا کرنے سے ملک میں کچھ مسائل پیدا ہوئے۔ عوام کی اکثریت کا خیال ہے پیٹرول کی نئی قیمت حد سے زیادہ ہے جس سے لوگوں پر دباؤ آتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: جن ماہرین نے حکام بالا کو پیٹرول کی نئی قیمت کا مشورہ دیا ہے انہوں نے درست انداز میں مسئلے کے تمام پہلوؤں کو پرکنے کی زحمت نہیں اٹھائی ہے۔ ان کی رپورٹ ناقص معلومات پر مبنی تھی۔
نامور سنی عالم دین نے کہا: ایرانی قوم ظالمانہ معاشی پابندیوں سے دوچار ہے، تجارتی کاروبار بھی شدید خسارے سے دوچار ہوچکے ہیں۔ عام لوگ سخت معاشی مسائل سے دوچار ہیں۔ جن ماہرین نے پیٹرول کی موجودہ قیمت کا مشورہ دیا ہے انہوں نے کیوں عوام کا خیال نہیں رکھا ہے؟ کیوں ایسی کوئی قیمت تجویز نہیں ہوئی جو لوگوں کے لیے قابل برداشت ہو۔
مولانا عبدالحمیدنے مزید کہا: اگرچہ حکام نے زور دیا ہے کہ اشیائے ضروری کی قیمتیں اوپر نہ جائیں، پھر بھی خواہ ناخواہ بعض چیزیں جن کا تعلق پیٹرول سے ہے مہنگی ہوجائیں گی۔
انہوں نے آخر میں حکام بالا کو مشورت دی ملک و ملت کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں نظرثانی کریں۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…