افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند میں افغان خصوصی فورسز کی طالبان کے خلاف کارروائی اور فضائی حملوں میں کم سے کم چالیس شہری شہید ہوگئے ہیں۔
ہلمند کی صوبائی کونسل کے ایک رکن عبدالمجید اخوند نے بتایا ہے کہ ضلع موسیٰ قلعہ میں افغان فورسز کی اس کارروائی میں شہید والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ وہ شادی کی ایک تقریب میں شریک تھے۔
انھوں نے مزید بتایا ہے کہ اس چھاپا مار کارروائی میں بارہ اور شہری زخمی ہوئے ہیں۔ انھیں صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ میں واقع ایک اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ افغان فورسز کی گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں یہ دوسری کارروائی ہے جس میں اتنی زیادہ تعداد میں شہری مارے گئے ہیں۔
اس سے پہلے گذشتہ بدھ کی شب مشرقی صوبہ ننگرہار کے ضلع خوجیانی میں افغان سکیورٹی فورسز اور امریکی فورسز کی ایک مشترکہ زمینی اور فضائی کارروائی میں تیس شہری جاں بحق اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔افغان فورسز نے اس کارروائی میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن ان کی بمباری کا ہدف نزدیک واقع کھیتوں میں کام کرنے والے کسان بن گئے تھے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید