افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند میں افغان خصوصی فورسز کی طالبان کے خلاف کارروائی اور فضائی حملوں میں کم سے کم چالیس شہری شہید ہوگئے ہیں۔
ہلمند کی صوبائی کونسل کے ایک رکن عبدالمجید اخوند نے بتایا ہے کہ ضلع موسیٰ قلعہ میں افغان فورسز کی اس کارروائی میں شہید والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ وہ شادی کی ایک تقریب میں شریک تھے۔
انھوں نے مزید بتایا ہے کہ اس چھاپا مار کارروائی میں بارہ اور شہری زخمی ہوئے ہیں۔ انھیں صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ میں واقع ایک اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ افغان فورسز کی گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں یہ دوسری کارروائی ہے جس میں اتنی زیادہ تعداد میں شہری مارے گئے ہیں۔
اس سے پہلے گذشتہ بدھ کی شب مشرقی صوبہ ننگرہار کے ضلع خوجیانی میں افغان سکیورٹی فورسز اور امریکی فورسز کی ایک مشترکہ زمینی اور فضائی کارروائی میں تیس شہری جاں بحق اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔افغان فورسز نے اس کارروائی میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن ان کی بمباری کا ہدف نزدیک واقع کھیتوں میں کام کرنے والے کسان بن گئے تھے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…