موصولہ اطلاعات کے مطابق صاحب”جمالین” مولانا علامہ “جمال احمد” صاحب استاذ “دارالعلوم دیوبند” کا میرٹھ میں اپنے گھر پر ہی انتقال ہوگیا ہے- إنا لله وإنا إليه راجعون –
مولانا علامہ جمال احمد دارالعلوم دیوبند کے ایک مقبول ترین استاذ تھے، آپ کا درس طلبہ میں کافی مقبول تھا، آپ نے کئی کتابوں کی شروحات بھی تصنیف کی ہیں جن میں سے “جمالین شرح اردو جلالین” کو اللہ نے کافی مقبولیت عطا کی ہے، اصول الشاشی، مقامات حریری، جلالین، حسامی اور ہدایہ جیسی کتابیں آپ سے متعلق تھیں.
یاد رہے کہ مولانا کافی دنوں سے سخت بیماری سے دوچار تھے، دو سال سے شوگر کافی زیادہ ہوگئی تھی، ۲ دن قبل ہی اسپتال سے گھر آئے تھے، یہ اطلاع آپ کے چھوٹے داماد قاری عارف قاسمی “جیت پور” دہلی نے دی ہے، دارالعلوم دیوبند میں اس خبر کے پہنچتے ہی غم کی لہر دوڑ گئی، نماز جنازہ اور تدفین کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. ذرائع کے مطابق آپ کے جسد خاکی کو کل صبح دیوبند لایا جاسکتا ہے اور تدفین بھی دیوبند میں ہی متوقع ہے، اللہ تبارک و تعالی استاذ محترم کی مغفرت فرمائے متعلقیین و اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائےـ ارباب مدارس ومساجد سے ایصال ثواب کی درخواست ہے-
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان