اسرائیل میں ایک عمارت کی بنیادیں کھودنے پر قدیم ترین مسجد کے آثار دریافت ہوئے ہیں، ابتدائی اندازے کے مطابق یہ انتہائی سادہ مسجد کم از کم 1200 سال قدیم ہے۔
اسرائیلی شہر راحت کے قریب نیگوَو کے ریگستان میں ایک عمارت کی بنیادیں کھودی جارہی تھیں کہ اس کے نیچے سے قدیم عمارت کے آثار نمودار ہوئے۔ مکمل کھدائی کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ایک مسجد ہے جس میں منبر کا علاقہ واضح طور پر قبلہ رخ ہے اور اسرائیلی محکمہ آثار کے مطابق یہ مسجد 1200 سال قبل تعمیر کی گئی تھی۔ اس کے بعد مسلمانوں کی بڑی تعداد نے یہاں آکر نماز بھی ادا کی ہے۔
اس علاقے میں دریافت ہونے والی یہ قدیم ترین مسجد ہے جس کا عہد خود عہدِ مکہ اور یروشلم سے ملتا ہے۔ اس موقع پر کھدائی کے نگراں جون سلگماں اور شاہر زور نے بتایا کہ یہ پوری دنیا میں ایک نایاب ترین دریافت ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس مسجد کو مقامی افراد نے ہی تعمیر کیا ہے جو کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ مسجد پر کوئی چھت نہیں بنائی گئی تھی اور منبر جنوب کی سمت یعنی قبلہ رخ ہے۔ اسرائیل میں تاریخِ اسلام کے ایک ماہر گڈیون ایونی نے بتایا کہ 636 عیسوی میں بازنطینی صوبے کو عربوں نے فتخ کرلیا تھا اور اس کے بعد یہ یہاں قائم کی جانے والی اولین مساجد میں سے ایک ہے۔
اس مسجد کے ساتھ گاؤں کے بھی کچھ آثار ملے ہیں جنہیں اسرائیلی حکومت نے علاقے کی تاریخ کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…