شام میں حکومتی فورسز اور باغی جنگجوؤں کے درمیان ہونے والی تازہ جھڑپوں کے دوران 100 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شام میں فریقین کے درمیان فائربندی پر اتفاق کے باوجود شمال مغربی حصے میں حکومتی فورسز اور باغی جنگجوؤں کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ باغیوں کے حملوں اور حکومتی فورسز کی بمباری کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔
شام میں انسانی حقوق کے مبصر نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ دو روز کے دوران جھڑپوں میں جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ الشغور نامی علاقے میں درجنوں شہری مارے گئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی فورسز کی تازہ کارروائیوں میں حکومتی فورسز نے طبی مراکز پر بھی بمباری کی جس کے نتیجے میں پیرا میڈیکل اسٹاف اور مریض جاں بحق ہوگئے۔
واضح رہے کہ شامی میں 2011 سے جاری خانہ جنگی میں اب تک 3 لاکھ 70 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جب کہ لاکھوں افراد کو اپنے گھر بار اور کاروبار کو چھوڑ کر پناہ گزین کیمپوں میں زندگی بسر کرنا پڑرہی ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…