شام میں حکومتی فورسز اور باغی جنگجوؤں کے درمیان ہونے والی تازہ جھڑپوں کے دوران 100 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شام میں فریقین کے درمیان فائربندی پر اتفاق کے باوجود شمال مغربی حصے میں حکومتی فورسز اور باغی جنگجوؤں کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ باغیوں کے حملوں اور حکومتی فورسز کی بمباری کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔
شام میں انسانی حقوق کے مبصر نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ دو روز کے دوران جھڑپوں میں جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ الشغور نامی علاقے میں درجنوں شہری مارے گئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی فورسز کی تازہ کارروائیوں میں حکومتی فورسز نے طبی مراکز پر بھی بمباری کی جس کے نتیجے میں پیرا میڈیکل اسٹاف اور مریض جاں بحق ہوگئے۔
واضح رہے کہ شامی میں 2011 سے جاری خانہ جنگی میں اب تک 3 لاکھ 70 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جب کہ لاکھوں افراد کو اپنے گھر بار اور کاروبار کو چھوڑ کر پناہ گزین کیمپوں میں زندگی بسر کرنا پڑرہی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…