شام میں اتحادی افواج کی ایک گاؤں پر بمباری سے 7 بچوں سمیت 14 شہری جاں بحق ہوگئے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بشار الاسد اور اتحادی افواج کے جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ادلب کے گاؤں ماہمبیل پر بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں 7 بچوں اور ایک خاتون سمیت 14 شہری جاں بحق ہوگئے۔
انسانی حقوق کے مبصر برائے شام نے دعویٰ کیا کہ ادلب میں اب بھی خونی جھڑپ جاری ہے، 4 ماہ میں 520 شہریوں کی ہلاک ہوچکے ہیں، اتحادی افواج نے تازہ کارروائی بھی ایک رہائشی علاقے میں کی۔ ایک خاتون راکٹ لگنے کے باعث ہلاک ہوئیں۔
داعش کے جنگجوؤں کے آخری ٹھکانے ادلب کے اکثریتی علاقوں سے حکومتی فورسز 8 سال بعد باغیوں کا قبضہ چھڑوانے میں کامیاب ہوگئی ہیں تاہم چند علاقوں میں اب بھی داعش کا تسلط برقرار ہے۔ روس اور ترکی میں قیام امن کے معاہدے کے باوجود اتحادی افواج رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ شام میں 2011 سے جاری خانہ جنگی میں 3 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے جب کہ لاکھوں افراد کو اپنے گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…