امریکا میں 11 سال سے پابند سلاسل فلسطینی پروفیسر اور دانشور ڈاکٹر عبدالحلیم الاشقر کو رہا کرنے کے بعد مُلک چھوڑںے کا حکم دیا گیا ہے۔
رہائی کےبعد 61 سالہ فلسطینی پروفیسر نے بتایاکہ امریکی خفیہ اداروں نے جاسوسی کے لیے اس کے پائوں کے ساتھ “GPS” سسٹم نصب کررکھا ہے۔
پروفیسر الاشقر کےخاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد عبدالحکیم الاشقر کو فوری طور پرملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حال ہی میں اس وقت عالمی سطح پر ایک نئی تشویش کی لہر اس وقت دوڑ گئی تھی جب یہ خبریں آئیں کہ امریکا فلسطینی سائنسدان کو اسرائیل کے حوالے کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ اس پر فلسطینی اور عالمی انسانی حقوق کے حلقوں کی طرف سے سخت غم وغصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
پروفیسر الاشقر کے خاندانی ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکا میں قید کی سزا پوری کرنے کے بعد ایک خصوصی طیارہ پروفیسر الاشقر کو اسرائیل لے جائے گا۔
سنہ 1958ء کو غرب اردن کے شہر طولکرم میںپیدا ہونے والے فلسطینی عبدالحلیم الاشقر لبنان، امریکا، یونان اور کئی دوسرے ملکوں کی جامعات سے فارغ التحصیل ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت سمجھے جاتےہیں۔ وہ امریکا کی مختلف جامعات میں پڑھاتے رہےہیں۔ گرفتاری سے قبل وہ امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ تھے۔ سنہ 2003ء میں انہیں اسلامی تحریک مزاحمت’حماس’ کے ساتھ تعاون اور جماعت کے لیے فنڈنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ تاہم انہیں اس کے بعد رہا کرکے گھر پرنظربند کردیا گیا تھا۔ سنہ 2007ء کو انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا اور ان پر حماس سے تعلق کےالزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…