تراشے

آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہوجائے

اس بستی کے لوگ شام بھیگتے ہی بعد اپنے اپنے حجروں سے نکل کر جمع ہونا شروع ہوجاتے۔۔۔ آپس میں گفتگو کرتے ایک دوسرے کے حالات جاننے، واقفیت بڑھانے کی کوشش کرتے۔ کسی نئے باسی کا اضافہ ان کے لیے باعث راحت ہوتا۔ آنے والے سے حال احوال پوچھتے اور اسے اپنی مجلس میں شامل کرکے خوشی محسوس کرتے۔
آج ایک نیا مہمان یہاں آیا تو اس نوجوان سے حالات جاننے کے لیے سب ہی بے چین ہوگئے: ’’اور سناؤ بھائی! کیسے یہاں آنا ہوا کیا گزری؟‘‘ ان میں سے ایک بزرگ آدمی بولا۔
نوجوان گویا ہوا:
’’بس جی کیا بتاؤں گھر میں شادی کی گہما گہمی، رونق تھی، سارا خاندان جمع تھا دلہن رخصت کرا کے گھر لے آئے تھے۔ میرے کزنز دوستوں نے کہا ’’چلو دلہا میاں ابھی تو دلہن کو خواتین گھرے بیٹھی ہیں۔ ذرا باہر چلتے ہیں تفریح رہے گی۔ آئس کریم کھائیں گے راستے میں حادثہ ہوگیا۔ سب ٹھیک رہے اور جس طرف میں بیٹھا تھا، گاڑی اسی طرف سے پچک گئی اور میں یہاں پہنچ گیا۔ میں نے دلہن کو دیکھا بھی نہیں تھا۔ وہ بے چاری میری منتظر ہی رہی، بس پھر کہاں کا ولیمہ، کہاں کی رونق، پل بھر میں گھر کا نقشہ ہی بدل گیا۔‘‘
سب اس نوجوان کو پیار بھری نظروں سے دیکھنے لگے۔

۔۔۔*۔۔۔
’’آؤ بیٹی آؤ! کہو کیسے یہاں آنا ہوا؟‘‘
آج پھر ایک نوجوان بچی ان کے درمیان موجود تھی۔
’’بزرگو! میری شادی کو تین سال ہوئے تھے۔ بہت دعائیں مانگیں، اللہ نے مجھے چاند سی بیٹی دی۔ آپریشن سے بچی پیدا ہوئی۔ پورے خاندان میں خوشی منائی گئی۔ میں بہت خوش تھی، پروگرام بنا رہی تھی کہ عقیقے کی تقریب کریں گے، سب بچی کے لیے تحفے لا رہے تھے۔ مٹھائیاں کھلائی جارہی تھیں۔ آپریشن کے چوبیس گھنٹے گزر گئے تھے، مجھے قہوہ بسکٹ کھلا کر دو چار قدم کمرے میں چلایا گیا سب کچھ ٹھیک تھا۔ بس اچانک میری طبیعت بگڑنے لگی۔ میں نے بڑی بہن کو بتایا جو میرے ساتھ تھیں کہ مجھے سانس میں تکلیف ہورہی ہے۔ وہ سینہ سہلانے لگی۔ میں نے اسے بتایا کہ مجھے سانس نہیں آرہی۔۔۔ وہ ڈاکٹر کو بلا لائی مگر کوئی کچھ نہ کرسکا اور میں چند لمحوں میں ہی اُس جہاں سے اِس جہاں پہنچ گئی۔ میں نے اپنی بچی کو جی بھر کے دیکھا بھی تھا نہ پیار کیا تھا۔ بس آخری لمحوں میں بچی میری گود میں تھی۔ اسے اشارے سے اپنی بہت کے سپرد کردیا تھا۔ بہن پندرہ سال سے بے اولاد تھی۔ اسے بچی کا تحفہ دے آئی ہوں۔ ایک ہی تو بہن تھی میری، جدائی سے بہت نڈھال ہے۔ والدین بھی بہت دکھی ہیں، تیس سال کی بیٹی گئی، ننھی منی بچی مل گئی، یہ تھی میری داستان!۔۔۔ ہاں میں جو کہ بچوں کو قرآن پڑھاتی تھی، وہ آج کام آرہا ہے اور میری موت بھی تو شہادت کے درجے پر تھی۔ بس جی اللہ نے ڈاکٹروں کو ہر الزام سے بچالیا اور ہنستے بولتے ہی اپنے پاس بلا لیا۔‘‘

۔۔۔*۔۔۔
اگلے دن اس بستی میں ایک نئی خاتون کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے اپنی داستان سناتے ہوئے کہا: ’’میں اچھی بھلی صحت مند تھی، پتا ہی نہ چلا کب جگر کا کینسر ہوا۔ کچھ عرصے سے بالکل بھی کچھ کھایا نہ جاتا تھا۔ آج میں گھر میں تنہا تھی۔ بچے اسکول اور شوہر دفتر گئے ہوئے تھے۔ دروازے پر سبزی لے رہی تھی کہ اچانک طبیعت میں شدید بے چینی محسوس ہوئی۔ سبزیوں کا تھیلا وہیں پھینکا اور کمرے میں بھاگی۔ خون کی الٹی ہوئی اور میں اپنے بیڈ پر بے سدھ پڑی رہی۔ سبزی والا بے چارہ انتظار کرتے کرتے چلا گیا۔ دروازہ کھلا تھا۔ صحن میں سبزیاں بکھری پڑی تھیں۔ کسی خاتون کا گزر ہوا۔ آوازیں دیں کچھ جواب نہ ملا تو محلے کے چند لوگوں کو جمع کر کے اندر آئیں تو میں کافی دیر سے مردہ پڑی تھی۔ بظاہر میں بالکل ٹھیک تھی۔ کسی کو میری بیماری کا علم نہ تھا مجھے بھی نہیں، بس اندر ہی اندر کینسر پھیل گیا۔‘‘

بس اتنی سی حقیقت ہے فریب خواب ہستی کی
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہوجائے
(نوٹ: یہ ہمارے علاقے کے سچے واقعات ہیں، جنہیں مخصوص پیرائے میں لکھا ہے۔)

baloch

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago