سری لنکا کے اراکین اسمبلی نے ملک بھر میں برقع اور نقاب پہننے پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی پر غور شروع کردیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر 8 خود کش دھماکوں میں 300 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد برقع اور نقاب پہننے پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کا امکان ہے۔
سری لنکن پارلیمنٹ کے رکن اسمبلی اشو مارا سنگھے نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی مذہب کے خلاف نہیں ہیں تاہم اب برقع اور نقاب لینے پر پابندی لگانے کے لیے مباحث کیے جا رہے ہیں۔
سری لنکا کے رکن اسمبلی نے مزید کہا کہ سری لنکا میں عمومی طور پر مسلمان خواتین بھی برقع یا نقاب نہیں لیتی ہیں تاہم کچھ لوگ شدت سے اس پر عمل پیرا ہیں۔ چہرہ ڈھک لینے سے شناخت ممکن نہیں رہتی جس کا دہشت گرد اُٹھاسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ سری لنکا میں ہونے والے 8 خود کش دھماکوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے تاہم حکومت تاحال اپنے سابق موقف پر قائم ہے جس میں دھماکوں میں مقامی تنظیم التوحید کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…