مسلم اقلیتیں

مسلمانوں کے ساتھ رویے پر امریکی تنقید ‘بےمعنی’ ہے، چین

چین نے سنکیانگ صوبے میں حراستی کیمپ سے متعلق امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کے متنازع بیان کو داخلی امور میں مداخلت قرار دے دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے حراستی کیمپ کی سابق قیدی سے ملاقات کے بعد چین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیجنگ مسلمانوں کے خلاف ’شرمناک منافقت‘ رکھتا ہے۔
قید کا شکار ایغور مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون میریگل ترسن نے امریکا میں بتایا کہ چین کی جیلوں میں اقلیتی برادری پر بدترین تشدد کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گین شوآنگ نے معمول کی پریس بریفنگ میں کہا کہ ’مائیک پومپیو کا بیان انتہائی مایوس کن اور خالصتاً چین کے داخلی امور میں مداخلت کے مترادف ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’سنکیانگ میں تمام صورتحال مستحکم ہے اور تمام اقلیتی برادری باہم اتفاق سے زندگی گزار رہی ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم امریکا پر حقائق تسلیم کرنے پر زور دیتے ہیں اور وہ چین کے خلاف گمراہ کن بیان اور بے بنیاد الزامات لگانے سے گریز کرے‘۔
سنکیانگ کے حراستی کیمپ کی سابق خاتون قیدی نے بتایا تھا کہ ’انہیں اسلام کی بنیادی تعلیمات مثلاً عبایا پہنے اور مردوں کو داڑھی رکھنے سے روکا جاتا ہے‘۔
بعد ازاں مائیک پومپیو نے ٹوئٹر پر بیان دیا کہ ’چین مرضی کے خلاف زیر حراست قیدیوں کو فوری رہا کرے اور جبر کا سلسلہ بند کرے‘
واضح رہے کہ یورپی یونین کے تین وفود نے جنوری میں سنکیانگ کے کیمپوں کا دورہ کیا تھا جس کے بعد انہوں نے بیان دیا کہ ’چین کے نام نہاد تربیتی مراکز میں جن لوگوں سے بات ہوئی وہ محض یاد کرائی گئی باتیں دہرا رہے تھے‘۔
چین نے سنکیانگ صوبے میں اسلام کی تعلیمات اور ایغور زبان پر سخت پابندیاں عائد کردی ہیں، جس سے متعلق چین کا موقف ہے کہ ان سے سنکیانگ میں رہائش پذیر غریب افراد کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔
چین کا کہنا تھا کہ سنکیانگ میں مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی جارہی بلکہ انتہا پسندی کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے کچھ لوگوں کو تربیت فراہم کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی نسلی تعصب کے خاتمے کے لیے قائم کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ 10 لاکھ سے زائد ایغور اور دوسری مسلم اقلیتوں کے افراد چین کے صوبے سنکیانگ میں جنگی قیدیوں کے کیمپوں میں قید ہیں۔
اقوام متحدہ کی کمیٹی نے رپورٹ میں اس تعصب کو ’خطرناک’ قرار دیا تھا کہ سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں کہ کتنے افراد طویل عرصے سے ان کیمپوں میں قید ہیں یا کتنے افراد کو سیاسی تعلیمی سینٹر میں مختلف وقت گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ایغور کون ہیں؟
چین کے جنوبی صوبے سنکیانگ میں مسلم اقلیتی برادری ‘اغور’ آباد ہیں جو صوبے کی آبادی کا 45 فیصد ہیں۔
سنکیانگ سرکاری طور پر چین میں تبت کی طرح خودمختار علاقہ کہلاتا ہے۔
کئی ماہ سے ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ایغور سمیت دیگر مسلم اقلیتوں کو سنکیانگ صوبے میں قید کرلیا جاتا ہے لیکن چین کی حکومت ان خبروں کو مسترد کررہی ہے۔

baloch

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago